MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن

غزل

وہ لوگ جو زندہ ہیں وہ مر جائیں گے اک دن
اک رات کے راہی ہیں گزر جائیں گے اک دن

یوں دل میں اٹھی لہر یوں آنکھوں میں بھرے رنگ
جیسے مرے حالات سنور جائیں گے اک دن

دل آج بھی جلتا ہے اسی تیز ہوا میں
اے تیز ہوا دیکھ بکھر جائیں گے اک دن

یوں ہے کہ تعاقب میں ہے آسائش دنیا
یوں ہے کہ محبت سے مکر جائیں گے اک دن

یوں ہوگا کہ ان آنکھوں سے آنسو نہ بہیں گے
یہ چاند ستارے بھی ٹھہر جائیں گے اک دن

اب گھر بھی نہیں گھر کی تمنا بھی نہیں ہے
مدت ہوئی سوچا تھا کہ گھر جائیں گے اک دن

 

ساقی فاروقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم