MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی

غزل چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی اب اگر کھولے تو ہم کو قید تنہائی ملی زندگی کی ظلمتیں اپنے لہو میں رچ گئیں تب کہیں جا کر ہمیں آنکھوں کی بینائی ملی موسم گل کی نئی تقسیم حیراں کر گئی زخم پھولوں کو ملے کانٹوں کو رعنائی ملی سطح دریا پر ابھرنے […]

چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی Read More »

کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا

غزل کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا ہم کو لوگوں نے بلایا ہمیں چھو کر دیکھا وہ جو برسات میں بھیگا تو نگاہیں اٹھیں یوں لگا ہے کوئی ترشا ہوا پتھر دیکھا کوئی سایہ بھی نہ سہمے ہوئے گھر سے نکلا ہم نے ٹوٹی ہوئی دہلیز کو اکثر دیکھا سوچ کا پیڑ

کرب کے شہر سے نکلے تو یہ منظر دیکھا Read More »

تڑپ رہا تھا میں جس درد لا دوا کے لئے

غزل تڑپ رہا تھا میں جس درد لا دوا کے لئے وہ مل گیا ہے مگر چھین لے خدا کے لئے میں بوند بوند ٹپکتا ہوں اپنے ہونٹوں پر چلا تھا لے کے یہ سرمایہ کربلا کے لئے فشار غم نے مجھے چور چور کر ڈالا کواڑ کھول دے سارے ذرا ہوا کے لئے کٹی

تڑپ رہا تھا میں جس درد لا دوا کے لئے Read More »

لوگ ہنسنے کے لیے روتے ہیں اکثر دہر میں

غزل لوگ ہنسنے کے لیے روتے ہیں اکثر دہر میں تلخیاں خود ہی ملا لیتے ہیں میٹھے زہر میں پیار کے چشموں کا پانی جب سے کھارا ہو گیا ساری دنیا گھر گئی ہے نفرتوں کے قہر میں وقت کہتا ہے ابھرتے ڈوبتے چہروں کو دیکھ آج تو رونق بڑی ہے حادثوں کی نہر میں

لوگ ہنسنے کے لیے روتے ہیں اکثر دہر میں Read More »

گر پڑا تو آخری زینے کو چھو کر کس لیے

غزل گر پڑا تو آخری زینے کو چھو کر کس لیے آ گیا پھر آسمانوں سے زمیں پر کس لیے آئینہ خانوں میں چھپ کر رہنے والے اور ہیں تم نے ہاتھوں میں اٹھا رکھے ہیں پتھر کس لیے میں نے اپنی ہر مسرت دوسروں کو بخش دی پھر یہ ہنگامہ بپا ہے گھر سے

گر پڑا تو آخری زینے کو چھو کر کس لیے Read More »

ہر چند زندگی کا سفر مشکلوں میں ہے

غزل ہر چند زندگی کا سفر مشکلوں میں ہے انساں کا عکس پھر بھی کئی آئنوں میں ہے تہذیب کو تلاش نہ کر شہر شہر میں تہذیب کھنڈروں میں ہے کچھ پتھروں میں ہے تجھ کو سکوں نہیں ہے تو مٹی میں ڈوب جا آباد اک جہان زمیں کی تہوں میں ہے کیسا تضاد ہے

ہر چند زندگی کا سفر مشکلوں میں ہے Read More »

میں اپنے دل میں نئی خواہشیں سجائے ہوئے

غزل میں اپنے دل میں نئی خواہشیں سجائے ہوئے کھڑا ہوا ہوں ہوا میں قدم جمائے ہوئے نئے جہاں کی تمنا میں گھر سے نکلا ہوں ہتھیلیوں پہ نئی مشعلیں جلائے ہوئے ہوا کے پھول مہکنے لگے مجھے پا کر میں پہلی بار ہنسا زخم کو چھپائے ہوئے نہ آندھیاں ہیں نہ طوفاں نہ خون

میں اپنے دل میں نئی خواہشیں سجائے ہوئے Read More »

گہرا سکوت ذہن کو بے حال کر گیا

غزل گہرا سکوت ذہن کو بے حال کر گیا سوچوں کے پھول پھول کو پامال کر گیا سورج نے اپنی آنچ کو واپس بلا لیا لیکن مرے لہو کو وہ سیال کر گیا کیا فیصلہ دیا ہے عدالت نے چھوڑیئے مجرم تو اپنے جرم کا اقبال کر گیا جو لوگ دور تھے وہ بہت دور

گہرا سکوت ذہن کو بے حال کر گیا Read More »

کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی

غزل کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی اور بھرے بازار میں تجھ کو حیا بھی آئے گی عطر میں کپڑے بسا کر مطمئن ہے کس لئے با وفا ہو جا کہ یوں بوئے وفا بھی آئے گی دیکھ لے ساحل سے جی بھر کے مچلتی لہر کو اس طرف کچھ دیر میں

کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی Read More »

میں فقط اس جرم میں دنیا میں رسوا ہو گیا

غزل میں فقط اس جرم میں دنیا میں رسوا ہو گیا میں نے جس چہرے کو دیکھا تیرے جیسا ہو گیا چاند میں کیسے نظر آئے تری صورت مجھے آندھیوں سے آسماں کا رنگ میلا ہو گیا ایک میں ہی روشنی کے خواب کو ترسا نہیں آج تو سورج بھی جب نکلا تو اندھا ہو

میں فقط اس جرم میں دنیا میں رسوا ہو گیا Read More »