چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی
غزل چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی اب اگر کھولے تو ہم کو قید تنہائی ملی زندگی کی ظلمتیں اپنے لہو میں رچ گئیں تب کہیں جا کر ہمیں آنکھوں کی بینائی ملی موسم گل کی نئی تقسیم حیراں کر گئی زخم پھولوں کو ملے کانٹوں کو رعنائی ملی سطح دریا پر ابھرنے […]
چپ رہے تو شہر کی ہنگامہ آرائی ملی Read More »