MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی

غزل

کانچ کی زنجیر ٹوٹی تو صدا بھی آئے گی
اور بھرے بازار میں تجھ کو حیا بھی آئے گی

عطر میں کپڑے بسا کر مطمئن ہے کس لئے
با وفا ہو جا کہ یوں بوئے وفا بھی آئے گی

دیکھ لے ساحل سے جی بھر کے مچلتی لہر کو
اس طرف کچھ دیر میں موج فنا بھی آئے گی

دودھیا نازک گلے میں باندھ لے تعویذ کو
آج سنتا ہوں کہ بستی میں بلا بھی آئے گی

رات کے پچھلے پہر دستک کا رکھ لینا خیال
پتے کھڑکیں گے ذرا آواز پا بھی آئے گی

اجلی اجلی خواہشوں پر نیند کی چادر نہ ڈال
یاد کے روزن سے کچھ تازہ ہوا بھی آئے گی

جا چکے سارے بگولے فکر کی کیا بات ہے
کھیت کو سیراب کرنے اب گھٹا بھی آئے گی

دور کے لوگوں کو نظروں میں بسا کر دیکھ لے
قرب مل جائے گا آنکھوں میں جلا بھی آئے گی

شہر نا پرساں کے منظر نقش کر لے ذہن میں
آنکھ رستے میں کوئی منظر گرا بھی آئے گی

دل کی مسجد میں کبھی پڑھ لے تہجد کی نماز
پھر سحر کے وقت ہونٹوں پر دعا بھی آئے گی

زندگی کا یہ مرض افضلؔ چلا ہی جائے گا
تیرے ہاتھوں میں کبھی خاک شفا بھی آئے گی

افضل منہاس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم