MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا

غزل اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا دیدۂ گریاں سے پردہ کھل گیا دل سے امڈے اشک خوں آنکھوں کی راہ جوش مے سے خم کا ڈھکنا کھل گیا کوچۂ جاناں کی ملتی تھی نہ راہ بند کیں آنکھیں تو رستہ کھل گیا ہر گرہ میں اس کے تھے عاشق کے دل زلف کے […]

اشک ٹپکے حال دل کا کھل گیا Read More »

عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا

غزل عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا آشنا سے ہو کے بیگانہ چلا قلقل مینا سے آتی ہے صدا بھر چکا جس وقت پیمانہ چلا بے زبانوں کو بھی آئی ہے زباں بیڑی غل کرتی ہے دیوانہ چلا عشق بازی بازئ شطرنج ہے چال ناداں رہ گیا دانہ چلا شب جو آیا بزم میں

عشق میں دل بن کے دیوانہ چلا Read More »

جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا

غزل جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا شیشے کے خالی ہوتے ہی پیمانہ بھر گیا نے قاصد خیال نہ پیک نظر گیا ان تک میں اپنی آپ ہی لے کر خبر گیا روح روان و جسم کی صورت میں کیا کہوں جھونکا ہوا کا تھا ادھر آیا ادھر گیا طوفان نوح اس

جب ہو چکی شراب تو میں مست مر گیا Read More »

آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں

غزل آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں یعنی تقدیر ستارے سے اٹھا سکتی ہوں اپنے پاؤں پہ کھڑی ہوں تجھے کیا لگتا تھا خود کو بس تیرے سہارے سے اٹھا سکتی ہوں آنکھیں مشتاق ہزاروں ہیں مگر سوچ کے رکھ تیری تصویر نظارے سے اٹھا سکتی ہوں راکھ ہو جائے محبت کی حویلی پل

آسماں ایک کنارے سے اٹھا سکتی ہوں Read More »

جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے

غزل جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے وقت گزرا جا رہا ہے دھوپ چھت سے ٹل رہی ہے اک لباس فاخرہ ہے سرخ غرقابی محل ہے کچھ پرانی ہو گئی ہے پر کہانی چل رہی ہے اک ستارہ ساز آنکھوں کے کنارے بس رہا ہے اک محبت نام کی لڑکی بدن

جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے Read More »

بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں

غزل بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں زندگی روٹھ گئی لوٹ کے پھر آئی نہیں جو سمجھنا ہی نہ چاہے اسے سمجھائی نہیں جو بھی اک بار کہی بات وہ دہرائی نہیں حسن سادہ ہے ترا میں بھی بہت عام سی ہوں میری آنکھوں میں کسی نیل کی گہرائی نہیں میرا حصہ مجھے

بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں Read More »

میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی

غزل میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی پر تری بات ہواؤں سے بگڑ جائے گی خشک پیڑوں کی طرح زرد محبت ہے مری اس پہ سبزہ نہیں آیا تو یہ جھڑ جائے گی میں کہ مٹی کی عمارت ہوں کسی روز یوں ہی دل یہ ڈھ جائے گا ہر اینٹ اکھڑ جائے

میں تو کاغذ ہوں مجھے آگ پکڑ جائے گی Read More »

تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے

غزل تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے تیرے بغیر زندگی کرنا حرام ہے کرنے ہیں تیرے جسم پہ اک بار دستخط تاکہ خدا سے کہہ سکوں تو میرے نام ہے ہوتا ہے گفتگو میں بہت بار تذکرہ یعنی ہوا چراغ کا تکیہ کلام ہے پہلے پہل ملی تھی ہمیں شدتوں کی دھوپ اب یوں

تو حرف آخری مرا قصہ تمام ہے Read More »

سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں

غزل سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں اندھیری رات میں تنہا میں اب کدھر جاؤں مجھے بگاڑ دیا ہے مرے ہی لوگوں نے کوئی خلوص سے چاہے تو میں سنور جاؤں مری جدائی میں گزری ہے زندگی کیسی یہ جی میں آئی ہے اس بار پوچھ کر جاؤں بتا تو کفر کا

سفر کے بیچ وہ بولا کہ اپنے گھر جاؤں Read More »

اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی

غزل اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی تیری دہلیز کی مٹی تھی اٹھا کے رکھ لی تجھ کو تکتے ہی رہے رات بہت دیر تلک چاند کے طاق میں تصویر سجا کے رکھ لی دل سی نوخیز کلی تیری محبت کے لیے سینچ کے جذبوں سے پہلو میں کھلا کے رکھ لی

اپنی آنکھوں کو عقیدت سے لگا کے رکھ لی Read More »