MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے

غزل ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے تو آ کے مل نہ مل یہ ترا اختیار ہے جس جس کے پاس دوستو جس جس کا یار ہے بہتر چمن سے گھر میں اسی کے بہار ہے تم زخم دل کی میرے خبر پوچھتے ہو کیا تیر نگاہ دل کے تو اب […]

ملنے کو تجھ سے دل تو مرا بے قرار ہے Read More »

یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا

غزل یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا یہ حوصلہ میرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا ہم راہ رقیبوں کے تجھے باغ میں سن کر دل دینے کا ثمرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا کہتا ہے بہت کچھ وہ مجھے چپکے ہی چپکے ظاہر میں یہ کہتا ہے کہ میں

یہ ڈر مجھے تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا Read More »

بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرے

غزل بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرے رو رو کے آنکھ بھرتی ہے پیمانہ کیا کرے دست و زبان و دیدہ و دل دیتی ہیں دعا کرتے ہیں وہ یگانے کہ بیگانہ کیا کرے کہتا ہی مرغ دل سے وہ حال میان خط سبزہ جو دام ہو تو اسے دانہ کیا کرے

بے رخ ہے وہ پری دل دیوانہ کیا کرے Read More »

بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر

غزل بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر آ جائے نہ آفت کہیں دو چار کے اوپر قطرات عرق ہیں نہیں یہ سلک گہر ہیں کیا عکس فگن اس رخ گلنار کے اوپر خوں ریزی پہ باندھے گا کمر جب کہ وہ سفاک گلزار بنا دے گا تن زار کے اوپر بوسہ جو طلب

بل پڑنے لگا ابروئے خم دار کے اوپر Read More »

اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا

غزل اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا جب تک موئے بلوں سے نکلنا محال تھا دیتے نہ چاٹ اگر لب شیریں کے ذکر کی مچلے تھا طفل اشک بہلنا محال تھا پیری میں طرز عشق جوانی وہی رہا صورت کے ساتھ دل کا بدلنا محال تھا قاتل تری گلی میں ہوئے سب کے

اس زلف کے خیال کا ملنا محال تھا Read More »

دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے

غزل دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے بند کانوں کو بھی گریہ کی صدا آتی ہے دل سے ہے آنکھ تک آئی اثر گرمیٔ شوق اشک حسرت سے نگہ آبلہ پا آتی ہے گل ہوا کوئی چراغ سحری او بلبل ہاتھ ملتی ہوئی پتوں سے صبا آتی ہے تیری آنکھوں کا ہوں

دل سے ہر دم ہمیں آواز لگا آتی ہے Read More »

جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی

غزل جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی کیا یہ دنیا عاقبت بخشائے گی جب ملے دو دل مخل پھر کون ہے بیٹھ جاؤ خود حیا اٹھ جائے گی گر یہی ہے اس گلستاں کی ہوا شاخ گل اک روز جھونکا کھائے گی داغ سودا ایک دن دے گا بہار فصل اس گل کی

جب نہ جیتے جی مرے کام آئے گی Read More »

چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی

غزل چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی تیرے خاطر منہ کو دکھلاتی ہے تارا چاندنی آج مہتابی پہ چڑھتا ہے وہ بہر سیر ماہ جانتا ہوں کچھ ترا چمکا ستارا چاندنی بے ضرورت خوش نہیں آتی جہاں میں کوئی چیز فصل سرما میں نہیں ہوتی گوارا چاندنی تو چڑھا شب کو جو مہتابی

چاندنی ہر شب کو کرتی ہے کنارا چاندنی Read More »

میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے

غزل میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے جو دل لیا ہے تو قیمت دلائیے نہ مجھے دلوں میں ٹالتے ہو دم نکل ہی جاوے گا میں ناتواں ہوں بہت آزمائیے نہ مجھے بہت دنوں سے مسیحائی کا ہو دم بھرتے مرا ہوا ہوں تمہیں پر جلائیے نہ مجھے خط آپ بھیجیں گے مجھ

میں بوسہ لوں گا بہانے بتائیے نہ مجھے Read More »

تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا

غزل تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا تمہارے ہمارے ہمارا تمہارا لیا دل تو لو جان بھی کیوں رہے جی تمنا ہماری تقاضا تمہارا یہ تصویر چہرہ اتر کیوں گیا ہے کھنچے کس سے ہو کیا ہے نقشہ تمہارا نہ تیر آہ کا دست قدرت میں اپنے نہ شمشیر ابرو پہ قبضہ تمہارا چلے ہم

تکلف نہیں ہم سے زیبا تمہارا Read More »