MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے

غزل لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے اک شاعر کے کمرے جیسی ہم نے عمر گزاری ہے ایک سلاخوں والی کھڑکی جھانک رہی ہے آنگن میں دیواروں پر اوپر نیچے خوابوں کی گلکاری ہے منظر منظر بھیگ رہا ہے شہر کی خالی سڑکوں پر پکی نہر پہ گاؤں کے گھوڑے کی […]

لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے Read More »

غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے

غزل غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے تیرے بغیر تو مری دنیا اداس ہے پھیلا ہوا ہے رات کی آنکھوں میں سوز ہجر مہتاب رت میں چاند کا چہرہ اداس ہے لو پھر سے آ گیا ہے جدائی کا مرحلہ آنکھیں ہیں نم مری ترا لہجہ اداس ہے بارش بہا کے لے گئی تنکوں

غمگین بے مزہ بڑی تنہا اداس ہے Read More »

اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے

غزل اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے پھر خالی ہاتھ دہر سے جانا پڑا مجھے سب لوگ تیرے شہر کے ماضی پرست تھے مشکل سے حال میں انہیں لانا پڑا مجھے پہلے بنائے آنکھ میں خوابوں کے مقبرے پھر حسرتوں کو دل میں دبانا پڑا مجھے مجھ کو تو خیر خانہ بدوشی ہی راس

اسباب ہست رہ میں لٹانا پڑا مجھے Read More »

وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا

غزل وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا یادوں کے قافلے سے دسمبر کہاں گیا کٹیا میں رہ رہا تھا کئی سال سے جو شخص تھا عشق نام جس کا قلندر کہاں گیا طوفان تھم گیا تھا ذرا دیر میں مگر اب سوچتی ہوں دل سے گزر کر کہاں گیا تیری گلی کی مجھ کو

وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا Read More »

چاہا یہی تھا میرؔ کا آزار کھینچتی

غزل چاہا یہی تھا میرؔ کا آزار کھینچتی صحرا میں اپنے واسطے دیوار کھینچتی آیا تھا میری اور وہ پیاسے لبوں کے ساتھ بس میں کہاں تھا میرے کہ انکار کھینچتی مجھ سے چھڑا کے ہاتھ وہ جانے لگا تھا کیوں اک بار گر وہ کہتا تو سو بار کھینچتی کرتا اگر سوال عطائی وصال

چاہا یہی تھا میرؔ کا آزار کھینچتی Read More »

کوئی ناؤ نہیں تیار کرنا

غزل کوئی ناؤ نہیں تیار کرنا مجھے آتا ہے دریا پار کرنا محبت کی نشانی ہوں تمہاری مجھے تم دیکھ کر مسمار کرنا میں اک زندہ حقیقت بن چکی ہوں نہیں ممکن مرا انکار کرنا کہانی ختم ہو جانے سے پہلے کہانی اک نئی تیار کرنا دل کمبخت کو عادت پڑی ہے ہمیشہ خواہش بے

کوئی ناؤ نہیں تیار کرنا Read More »

خشکی پہ رہوں گی کبھی پانی میں رہوں گی

غزل خشکی پہ رہوں گی کبھی پانی میں رہوں گی تا عمر اسی نقل مکانی میں رہوں گی میں جسم نہیں حسن ہوں اے چشم ابد تاب مر کر بھی محبت کی کہانی میں رہوں گی تابندہ رہیں گے مری آنکھوں کے کنارے اشکوں میں ڈھلی ہوں کہ روانی میں رہوں گی اجداد کی قربت

خشکی پہ رہوں گی کبھی پانی میں رہوں گی Read More »

آنکھ امکان سے بھری ہوئی تھی

غزل آنکھ امکان سے بھری ہوئی تھی اور میں خواب میں ڈری ہوئی تھی زخم گنتی تھیں انگلیاں اپنے کوشش آئینہ گری ہوئی تھی ہجر کیا خوب کیفیت لایا ان دنوں کتنی شاعری ہوئی تھی کیا اسی میں ہی عشق پنہاں تھا اک نگہ وہ بھی سرسری ہوئی تھی کیسا محسوس ہو رہا تھا تمہیں

آنکھ امکان سے بھری ہوئی تھی Read More »

رنگ خوشبو اور گل و گلزار کی ہے روشنی

غزل رنگ خوشبو اور گل و گلزار کی ہے روشنی میری نس نس میں تمہارے پیار کی ہے روشنی میرے ہونٹوں پر اجالے ہیں لب دلدار کے میری آنکھوں میں نگاہ یار کی ہے روشنی راحت جاں کے اجالے دیکھتی ہوں جا بجا باغ میں قربت کے برگ و بار کی ہے روشنی تیری خوشبو

رنگ خوشبو اور گل و گلزار کی ہے روشنی Read More »

ان کے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں

غزل ان کے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں خوابوں میں آئیں وہ کہ ذرا شب بسر کریں پردہ اٹھا حجاب اٹھا کوئی بات کر سوئے ہوئے بدن کو جگا شب بسر کریں تو نیند ہے چراغ ہے تو دل کا چین ہے تیرے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں چپ چاپ ایک دوسرے کو

ان کے بغیر کیسے بھلا شب بسر کریں Read More »