لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے
غزل لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے اک شاعر کے کمرے جیسی ہم نے عمر گزاری ہے ایک سلاخوں والی کھڑکی جھانک رہی ہے آنگن میں دیواروں پر اوپر نیچے خوابوں کی گلکاری ہے منظر منظر بھیگ رہا ہے شہر کی خالی سڑکوں پر پکی نہر پہ گاؤں کے گھوڑے کی […]
لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے Read More »