MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں

غزل

بے خیالی میں کہا تھا کہ شناسائی نہیں
زندگی روٹھ گئی لوٹ کے پھر آئی نہیں

جو سمجھنا ہی نہ چاہے اسے سمجھائی نہیں
جو بھی اک بار کہی بات وہ دہرائی نہیں

حسن سادہ ہے ترا میں بھی بہت عام سی ہوں
میری آنکھوں میں کسی نیل کی گہرائی نہیں

میرا حصہ مجھے خاموشی سے دے دیتا ہے
درد کے آگے ہتھیلی کبھی پھیلائی نہیں

اپنے افکار لیے پہلو نشیں ہو کے رہا
دل سے درویش نے دنیا تری اپنائی نہیں

شب کے تاریک لبوں پر ہے کئی سال کی چپ
خود سے ناراض ہے اتنی کبھی مسکائی نہیں

باس پھولوں کی چرا لی ہے ہواؤں نے مگر
جو کلی یاد کی تیری ہے وہ مرجھائی نہیں

آگ یہ دونوں طرف کیوں نہ برابر سی لگے
ہائے وہ عشق ہی کیا جس میں پذیرائی نہیں

بے ارادہ بھی کوئی کام تعطل نہ پڑا
با ارادہ تھی ملاقات کی شب آئی نہیں

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم