MOJ E SUKHAN

جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے

غزل

جاگتے دن کی گلی میں رات آنکھیں مل رہی ہے
وقت گزرا جا رہا ہے دھوپ چھت سے ٹل رہی ہے

اک لباس فاخرہ ہے سرخ غرقابی محل ہے
کچھ پرانی ہو گئی ہے پر کہانی چل رہی ہے

اک ستارہ ساز آنکھوں کے کنارے بس رہا ہے
اک محبت نام کی لڑکی بدن میں پل رہی ہے

پاس تھا کھویا نہیں ہے جو نہ تھا اب بھی نہیں ہے
عمر بھر پھر کیوں طبیعت مضطرب بے کل رہی ہے

آنا جانا سانس کا کیا وصل سے مشروط ہے
تو چلے تو تھم رہی ہے تو رکے تو چل رہی ہے

زرد رو وحشت زدہ بھٹکی ہوئی ویران سی
زندگی اک شام ہے اور شام بن میں ڈھل رہی ہے

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم