MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے

غزل

لکڑی کی دو میزیں ہیں اک لوہے کی الماری ہے
اک شاعر کے کمرے جیسی ہم نے عمر گزاری ہے

ایک سلاخوں والی کھڑکی جھانک رہی ہے آنگن میں
دیواروں پر اوپر نیچے خوابوں کی گلکاری ہے

منظر منظر بھیگ رہا ہے شہر کی خالی سڑکوں پر
پکی نہر پہ گاؤں کے گھوڑے کی ٹاپ سواری ہے

پیاس بجھانے آتے ہیں دکھ درد پرندے رات گئے
خواب کا چشمہ پھوٹا تھا آنکھوں میں اب تک جاری ہے

صندوق پرانی یادوں کا تالا توڑ کے دیکھا تو
اک ریشم کی شال ملی ہے نیلے رنگ کی ساری ہے

وقت ملے تو گلدستے کا ہاتھ پکڑ کر آ جانا
ورنہ کہنا کام بہت ہے آنے میں دشواری ہے

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم