MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے

غزل کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے دل کیا گیا حیات کے سامان ہی گئے وہ واردات قلب کے لمحے فنا ہوئے وہ جن پہ ناز تھا مجھے ارمان ہی گئے پہلے تو حوصلہ نہ ہوا ان سے ربط کا آخر ہم اپنے دل کا کہا مان ہی گئے ہم نے تو درد […]

کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے Read More »

کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہے

غزل کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہے جتنا جتنا شہر بڑا ہے اتنی ہی ویرانی ہے دل کے کارن اس دنیا میں کتنے گھاؤ کھائے ہیں لیکن جب بھی موقع آیا بات اسی کی مانی ہے یہ سنسار ہے گہرا ساگر اس کے اندر موتی ہیں ساحل پر تم موتی ڈھونڈو

کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہے Read More »

موسم اچھا ہے رت سہانی ہے

غزل موسم اچھا ہے رت سہانی ہے میرے لب پر تری کہانی ہے دکھ ہو یا سکھ ہو جھیلنا ہے اسے زندگانی تو زندگانی ہے آج بادل ہیں باد و باراں ہے ہاتھ میں جام ارغوانی ہے جس نے سرشار عمر بھر رکھا زاہدو وہ میری جوانی ہے لوگ کہتے ہیں زندگی جس کو ایک

موسم اچھا ہے رت سہانی ہے Read More »

کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھا

غزل کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھا اور اس پہ نور کسی ماہتاب کا سا تھا بہار کی کوئی توجیہہ اور کیا کیجے تمام رنگ تمہارے شباب کا سا تھا تمام شہر تمنا میں گھوم کر دیکھا وہی سماں دل خانہ خراب کا سا تھا ترے قریب تو خود سے بعید ہو کے

کھلا ہوا ترا چہرہ گلاب کا سا تھا Read More »

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی

غزل شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی دل تھا کہ پھر بہل گیا جاں تھی کہ پھر سنبھل گئی بزم خیال میں ترے حسن کی شمع جل گئی درد کا چاند بجھ گیا ہجر کی رات ڈھل گئی جب تجھے یاد کر لیا صبح مہک مہک اٹھی جب ترا غم

شام فراق اب نہ پوچھ آئی اور آ کے ٹل گئی Read More »

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا

غزل نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تن داغ داغ لٹا دیا مرے چارہ گر کو نوید ہو صف دشمناں کو خبر کرو جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا کرو کج جبیں پہ سر کفن مرے قاتلوں کو گماں

نہ گنواؤ ناوک نیم کش دل ریزہ ریزہ گنوا دیا Read More »

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہاتھ نہیں

غزل کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہاتھ نہیں صد شکر کہ اپنی راتوں میں اب ہجر کی کوئی رات نہیں مشکل ہیں اگر حالات وہاں دل بیچ آئیں جاں دے آئیں دل والو کوچۂ جاناں میں کیا ایسے بھی حالات نہیں جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان

کب یاد میں تیرا ساتھ نہیں کب ہات میں تیرا ہاتھ نہیں Read More »

جمیل عثمان ۔۔ نصف صدی کے قصے رانا خالد محمود قیصر

جمیل عثمان ۔۔ نصف صدی کے قصے رانا خالد محمود قیصر   ایک تخلیق کار کے ذہن میں مختلف خیالات بسیرا کئے ہوتے ہیں لیکن ان میں قرطاس ادب پر صرف وہ منتقل ہوتا ہے جس کو فہم وفراست کے سانچے میں ڈھالا جا سکے۔ کہانی لکھنا یا افسانہ لکھنا کہنے کو تو کارآسان ہے

جمیل عثمان ۔۔ نصف صدی کے قصے رانا خالد محمود قیصر Read More »

ہاتھ وہ دل پہ حیا سے رکھنا

غزل ہاتھ وہ دل پہ حیا سے رکھنا رابطہ پھر بھی خدا سے رکھنا کوئلے ہاتھ میں رکھنا لیکن ہاتھ کو دور قبا سے رکھنا دھیان رکھنا کہ بدن مل نہ سکیں مل بھی جائیں تو جدا سے رکھنا ہے برا وقت تو ٹل جائے گا دھیان میں اس کے دلاسے رکھنا دشمنی کرنا مگر

ہاتھ وہ دل پہ حیا سے رکھنا Read More »

اس کی طرف سے کوئ اشارہ ہوا نہ تھا

غزل اس کی طرف سے کوئ اشارہ ہوا نہ تھا لیکن ہمیں یہ شبد گوارا ہوا نہ تھا خیرات اس نے حسبِ ضرورت نہ دی ہمیں پوری طرح ہمارا گزارا ہوا نہ تھا منسوب میرے نام سے اس نے کیا وہ دن وہ دن جو اس کے ساتھ گزارا ہوا نہ تھا احسان مند اس

اس کی طرف سے کوئ اشارہ ہوا نہ تھا Read More »