کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے
غزل کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے دل کیا گیا حیات کے سامان ہی گئے وہ واردات قلب کے لمحے فنا ہوئے وہ جن پہ ناز تھا مجھے ارمان ہی گئے پہلے تو حوصلہ نہ ہوا ان سے ربط کا آخر ہم اپنے دل کا کہا مان ہی گئے ہم نے تو درد […]
کیف و سرور قلب کے امکان ہی گئے Read More »