MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہے

غزل

کوچہ کوچہ گھوم کے دیکھا بات تو اتنی جانی ہے
جتنا جتنا شہر بڑا ہے اتنی ہی ویرانی ہے

دل کے کارن اس دنیا میں کتنے گھاؤ کھائے ہیں
لیکن جب بھی موقع آیا بات اسی کی مانی ہے

یہ سنسار ہے گہرا ساگر اس کے اندر موتی ہیں
ساحل پر تم موتی ڈھونڈو یہ تو بڑی نادانی ہے

یوں تو اس جیون کا پل پل ایک سہانا سپنا ہے
منموہن البیلا ساجن اس میں ایک جوانی ہے

ان آنکھوں نے آج نہ جانے کیسا منظر دیکھا ہے
آج مرا دل دھڑک رہا ہے آج بڑی حیرانی ہے

ایوانوں میں رہنے والو کٹیاؤں پر ایک نظر
مال و منال کی قیمت کیا ہے یہ دنیا تو فانی ہے

الجھاؤ پہ الجھاؤ ہیں اس ہستی کی بستی میں
ایک طویل بکھیڑا ہے یہ ایک عجیب کہانی ہے

من مندر میں فیضؔ ہمارے میلہ ہے کنیاؤں کا
ہر صورت اک مورت ہے اور ہر تصویر سہانی ہے

فیض تبسم تونسوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم