سکوت انتشار ہو گیا اگر
غزل سکوت انتشار ہو گیا اگر وجود بھی فرار ہو گیا اگر لڑائ گر پہنچ گئ گھروں میں تو محاذ رہگزار ہو گیا اگر کسی کو ہم کلام نقد بیچ دیں پہ عشق مستعار ہو گیا اگر چراغ وہ جلائے تو نظر کھلے چراغ بھی فرار ہو گیا اگر یہ سوچ کے ہی انقلاب لائیے […]
سکوت انتشار ہو گیا اگر Read More »