MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سکوت انتشار ہو گیا اگر

غزل سکوت انتشار ہو گیا اگر وجود بھی فرار ہو گیا اگر لڑائ گر پہنچ گئ گھروں میں تو محاذ رہگزار ہو گیا اگر کسی کو ہم کلام نقد بیچ دیں پہ عشق مستعار ہو گیا اگر چراغ وہ جلائے تو نظر کھلے چراغ بھی فرار ہو گیا اگر یہ سوچ کے ہی انقلاب لائیے […]

سکوت انتشار ہو گیا اگر Read More »

ادھورا عشق تھا سو ہم ادھورے رہ گئے ہیں

غزل ادھورا عشق تھا سو ہم ادھورے رہ گئے ہیں بدن رکھتے ہوئے دونوں اچھوتے رہ گئ ہیں برائے تجربہ بچھڑے ذرا سی دیر کو ہم پھر اس کے بعد تو گویا بچھڑ کے رہ گئے ہیں وہ میری ڈائری لوٹا گئ ہے  حسبِ وعدہ ورق پر ڈائری میں میری آدھے رہ گئے ہیں نہیں

ادھورا عشق تھا سو ہم ادھورے رہ گئے ہیں Read More »

اس کو بھی مجھ سے محبت ہوتے ہوتے رہ گئ

غزل اس کو بھی مجھ سے محبت ہوتے ہوتے رہ گئ اک کہانی خوبصورت ہوتے ہوتے رہ گئ پھر مری حساسیت میں وہم داخل ہو گیا اور وہ مجھ میں سرایت ہوتے ہوتے رہ گئ  جنگ مجھ سے جیت کے وہ ہو گئ خود بھی نڈھال زندگی مالِ غنیمت ہوتے ہوتے رہ گئ رات اک

اس کو بھی مجھ سے محبت ہوتے ہوتے رہ گئ Read More »

تجھ کو دانستہ اذیت تو نہیں دے سکتا

غزل تجھ کو دانستہ اذیت تو نہیں دے سکتا میں بچھڑنے کی اجازت تو نہیں دے سکتا آپ کیا جانیں کہ ہوتا ہے کیا تکمیل کے بعد اذنِ تکمیل ِمحبت تو نہیں دے سکتا آپ سے عشق نبھانے کا ارادہ ہے مگر عشق نبھنے کی ضمانت تو نہیں دے سکتا تجھ پہ مدت اثر انداز

تجھ کو دانستہ اذیت تو نہیں دے سکتا Read More »

دور فطرت سے طبیعت کا دھواں ہوتا ہے

غزل دور فطرت سے طبیعت کا دھواں ہوتا ہے جب اسے یاد کروں حسن عیاں ہوتا ہے چاک سے مٹی اٹھاؤں تو در و بام بنیں در و دیوار اگر ہوں تو مکاں ہوتا ہے عشق ہو جائے تو سب مشکلیں آساں ہو جائیں عشق ہونا مگر آساں کہاں ہوتا ہے کچھ سماعت میں اتر

دور فطرت سے طبیعت کا دھواں ہوتا ہے Read More »

ذہن میں رہتا ہے اس سے رابطہ ٹوٹا ہوا

غزل ذہن میں رہتا ہے اس سے رابطہ ٹوٹا ہوا دیکھنا پڑتا ہے مجھ کو آئینہ ٹوٹا ہوا کیا کروں شدت سے ہو گا اس کو میرا انتظار ان دنوں زیرِقدم ہے راستہ ٹوٹا ہوا ڈر رہا ہوں مسئلوں کے حل ادھورے رہ نہ جائیں کیا کہوں، ہر شخص کا ہے مسئلہ ٹوٹا ہوا مخبروں

ذہن میں رہتا ہے اس سے رابطہ ٹوٹا ہوا Read More »

رات وہ رات سے زیادہ تھی

غزل رات وہ رات سے زیادہ تھی بات بھی بات سے زیادہ تھی کل مری اضطرابی کیفیت میرے حالات سے زیادہ تھی اس کی آنکھوں میں وصل کی خواہش میرے جذبات سے زیادہ تھی راکھ بھیجی تھی اس نے تحفے میں پر وہ سوغات سے زیادہ تھی وہ جو خیرات اس نے دی تھی مجھے

رات وہ رات سے زیادہ تھی Read More »

درد دل کون آزماتا ہے

غزل درد دل کون آزماتا ہے کون بے چینیاں بڑھاتا ہے رات بھر جاگتے رہے ہو تم جانے کیا غم تمہیں ستاتا ہے ہنستے ہنستے جو رونے لگتے ہو کچھ کہو کون یاد آتا ہے جس نجومی نے تھی ہتھیلی پڑھی کیا مقدر بھی وہ جگاتا ہے جسے کرنا ہو کوئی وعدہ وفا تو وہ

درد دل کون آزماتا ہے Read More »

کھل اٹھیں گے مری بو سے مرے جانے کے بعد

غزل میں بہار دل شاعر ہوں تو اب سارے گلاب کھل اٹھیں گے مری بو سے مرے جانے کے بعد مرے ہونے کی نہیں قدر کبھی تو نے کی تو مرا نام نہیں لے مرے جانے کے بعد وہ جو ہنستے تھے مرے حال پہ کچھ دن پہلے وہ بھی بے ساختہ روئے مرے جانے

کھل اٹھیں گے مری بو سے مرے جانے کے بعد Read More »

نہ احترام کا بس احترام کر بیٹھے

غزل   نہ احترام کا بس احترام کر بیٹھے ہم اپنے کرب کا خود انتظام کر بیٹھے انہیں تو آنا ہی کب تھا ہماری بستی میں ہزار طرح کے ہم اہتمام کر بیٹھے یہ بے رخی کا عجب سلسلہ تو تب سے ہے وہ گزرے راہ سے اور ہم سلام کر بیٹھے خموش طبع تھے

نہ احترام کا بس احترام کر بیٹھے Read More »