MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

غزل تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے وہ پھول جو مرے […]

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے Read More »

دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا

غزل دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حال دل تو کیا ہوگا ہمارا کیا ہمیں تو ڈوبنا ہے ڈوب جائیں گے مگر طوفان جا پہنچا لب ساحل تو کیا ہوگا شراب ناب ہی سے ہوش اڑ جاتے ہیں انساں کے ترا کیف نظر بھی ہو گیا

دل دیوانہ عرض حال پر مائل تو کیا ہوگا Read More »

غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی

غزل غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی ہوتی ہے کائنات غزل خواں کبھی کبھی ہم نے دیئے ہیں عشق کو تیور نئے نئے ان سے بھی ہو گئے ہیں گریزاں کبھی کبھی اے دولت سکوں کے طلبگار دیکھنا شبنم سے جل گیا ہے گلستاں کبھی کبھی ہم بے کسوں کی بزم میں آئے

غم چھیڑتا ہے ساز رگ جاں کبھی کبھی Read More »

حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں

غزل حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں اے غم یار تجھے ہم تو دعا دیتے ہیں تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزا دیتے ہیں کوئے محبوب سے چپ چاپ گزرنے والے عرصۂ زیست میں اک حشر اٹھا دیتے ہیں ہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں

حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں Read More »

حدیث زندگی سنتے رہے ہیں

غزل حدیث زندگی سنتے رہے ہیں بڑی مدت سے سر دھنتے رہے ہیں ہوئے ہیں پاش اک ضرب فنا سے جو سپنے عمر بھر بنتے رہے ہیں بھرا پھولوں سے تھا گلشن کا دامن مگر ہم خار ہی چنتے رہے ہیں رباب وقت نے چھیڑا ترانہ جسے ہم ڈوب کر سنتے رہے ہیں سر رہ

حدیث زندگی سنتے رہے ہیں Read More »

ممکن ہے پھر تلافئ مافات ہو نہ ہو

غزل ممکن ہے پھر تلافئ مافات ہو نہ ہو آ جا کہ اس کے بعد کوئی بات ہو نہ ہو شاید کہ زیست سانس بھی لینے نہ دے ہمیں شاید کہ اس کے بعد ملاقات ہو نہ ہو اب تک تو آنسوؤں کی جھڑی ہے لگی ہوئی پھر کون جانتا ہے کہ برسات ہو نہ

ممکن ہے پھر تلافئ مافات ہو نہ ہو Read More »

حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی بات

غزل حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی بات ہر ایک بات تری چشم التفات کی بات خزاں کا ذکر بھلا موسم بہار میں کیا طلوع صبح درخشاں میں کیسی رات کی بات حدیث درد و الم کو اگر الگ کر لیں تو کس زباں سے کریں کرب کائنات کی بات بہار مے کدہ و

حدیث شوق کہیں یا کریں حیات کی بات Read More »

ہر طرف جلوۂ فروزاں ہے

غزل ہر طرف جلوۂ فروزاں ہے صحن ہستی میں اک چراغاں ہے حسن ہی حسن ہے نگاہوں میں ذرہ ذرہ گہر بداماں ہے پھول تو کھل رہے ہیں گلشن میں اپنی قسمت ہے اپنا داماں ہے اے وفا نا شناس وقت بتا آج پھر کس سے عہد و پیماں ہے زندگی سے جنم کا ساتھ

ہر طرف جلوۂ فروزاں ہے Read More »

بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخص

غزل بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخص یہ کیا ہوا کہ مجھ سے خفا ہو گیا وہ شخص جس سے ملی تھی میری تمنا کو روشنی اے تیرگیٔ بخت خفا ہو گیا وہ شخص اترا تھا بوئے گل کی طرح میری روح میں ایسا گیا کہ موج ہوا ہو گیا وہ شخص ہم نے

بیگانۂ شعور وفا ہو گیا وہ شخص Read More »

آپ کے شہر میں آنے والے

غزل آپ کے شہر میں آنے والے یعنی خود جان سے جانے والے سوچتا رہتا ہوں کیسے ہوں گے حال دل دل میں چھپانے والے بھول جانا تری عادت ہی سہی ہم نہیں تجھ کو بھلانے والے ہم چٹانوں کی طرح قائم ہیں کچھ کہیں ہم کو زمانے والے میری تقدیر کے بھی مالک ہیں

آپ کے شہر میں آنے والے Read More »