MOJ E SUKHAN

پل دو پل کی جو آشنائی تھی

غزل

پل دو پل کی جو آشنائی تھی
مجھ کو لگتا تھا کل خدائی تھی

میں نے ٹھکرا دیا تھا دنیا کو
جب یہاں تو پلٹ کے آئی تھی

پھر کسی دوسرے کی ہو جانا
یہ بتا مجھ میں کیا برائی تھی

مانگتے کیوں ہو تم دلیل خدا
گر خدا تھا تو یہ خدائی تھی

روگ بھی مشترک جدید سا تھا
ہر طرف ایک ہی دہائی تھی

جس کے لب پر سوال آیا تھا
آگ اس نے ہی آ لگائی تھی

نجمؔ اس موڑ پر چلے آئے
جس جگہ سانس ڈگمگائی تھی

جی اے نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم