MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

موت نے مسکرا کے پوچھا ہے

غزل موت نے مسکرا کے پوچھا ہے زندگی کا مزاج کیسا ہے اس کی آنکھوں میں میری غزلیں ہیں میری غزلوں میں اس کا چہرا ہے اس سے پوچھو عذاب رستوں کا جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے چاندنی صرف ہے فریب نظر چاند کے گھر میں بھی اندھیرا ہے عشق میں بھی مزہ […]

موت نے مسکرا کے پوچھا ہے Read More »

عقل و دانش کو زمانے سے چھپا رکھا ہے

غزل عقل و دانش کو زمانے سے چھپا رکھا ہے خود کو دانستہ ہی دیوانہ بنا رکھا ہے گھر کی ویرانیاں لے جائے چرا کر کوئی اسی امید پہ دروازہ کھلا رکھا ہے بن گئے اونچے محل ان کی عبادت گاہیں نام دولت کا جہاں سب نے خدا رکھا ہے قابل رشک سے وہ دختر

عقل و دانش کو زمانے سے چھپا رکھا ہے Read More »

نام خوشبو تھا سراپا بھی غزل جیسا تھا

غزل نام خوشبو تھا سراپا بھی غزل جیسا تھا چاند سے چہرے پہ پردہ بھی غزل جیسا تھا سارے الفاظ غزل جیسے تھے گفتار کے وقت رنگ اظہار تمنا بھی غزل جیسا تھا پھول ہی پھول تھے کلیاں تھیں حسیں گلیاں تھیں آپ کے گھر کا وہ رستہ بھی غزل جیسا تھا اس کی آنکھیں

نام خوشبو تھا سراپا بھی غزل جیسا تھا Read More »

کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا

غزل کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا ٹوٹے پڑے تھے آئنے پتھر نہیں ملا پتھر کے جیسی بے حسی اس کا نصیب ہے وہ قوم جس کو کوئی پیمبر نہیں ملا جب تک وہ جھوٹ کہتا رہا سر پہ تاج تھا سچ کہہ دیا تو تاج ہی کیا سر نہیں ملا ہم رات بھر

کوئی ثبوت جرم جگہ پر نہیں ملا Read More »

مرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے

غزل مرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے کہ میرے دوست کا دشمن مری امان میں ہے وہ خوش نصیب پرندہ ہے جو اڑان میں ہے کہ تیر نکلا نہیں ہے ابھی کمان میں ہے تمہارا نام لیا تھا کبھی محبت سے مٹھاس اس کی ابھی تک مری زبان میں ہے تم آکے لوٹ گئے

مرا خلوص ابھی سخت امتحان میں ہے Read More »

نہ ہو جس پہ بھروسہ اس سے ہم یاری نہیں رکھتے

غزل نہ ہو جس پہ بھروسہ اس سے ہم یاری نہیں رکھتے ہم اپنے آشیاں کے پاس چنگاری نہیں رکھتے فقط نام محبت پر حکومت کر نہیں سکتے جو دشمن سے کبھی لڑنے کی تیاری نہیں رکھتے خریداروں میں رہ کر زندگی وہ بک بھی جاتے ہیں ترے بازار میں جو لوگ ہشیاری نہیں رکھتے

نہ ہو جس پہ بھروسہ اس سے ہم یاری نہیں رکھتے Read More »

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے کے لیے

غزل گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے کے لیے سوچنا پڑتا ہے کتنا مسکرانے کے لئے کتنی زحمت جھیلتا ہے ایک مفلس میزبان گھر کی بد حالی کو مہماں سے چھپانے کے لئے بھوک ان کو لے گئی ہے کارخانوں کی طرف گھر سے بچے نکلے تھے اسکول جانے کے لئے خون اپنا بیچ کر

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے کے لیے Read More »

دل لگایا ہے تو نفرت بھی نہیں کر سکتے

غزل دل لگایا ہے تو نفرت بھی نہیں کر سکتے اب ترے شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتے آخری وقت میں جینے کا سہارا ہے یہی تیری یادوں سے بغاوت بھی نہیں کر سکتے جھوٹ بولے تو جہاں نے ہمیں فن کاری کہا اب تو سچ کہنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتے اس

دل لگایا ہے تو نفرت بھی نہیں کر سکتے Read More »

ظرف سے بڑھ کے ہو اتنا نہیں مانگا جاتا

غزل ظرف سے بڑھ کے ہو اتنا نہیں مانگا جاتا پیاس لگتی ہے تو دریا نہیں مانگا جاتا چاند جیسی بھی ہو بیٹی کسی مفلسی کی تو اونچے گھر والوں سے رشتہ نہیں مانگا جاتا دوستی کر کے ہوا سے جو جلا دیں گھر کو ان چراغوں سے اجالا نہیں مانگا جاتا اپنے کمزور بزرگوں

ظرف سے بڑھ کے ہو اتنا نہیں مانگا جاتا Read More »

اپنے ہی خون سے اس طرح عداوت مت کر

غزل اپنے ہی خون سے اس طرح عداوت مت کر زندہ رہنا ہے تو سانسوں سے بغاوت مت کر سیکھ لے پہلے اجالوں کی حفاظت کرنا شمع بجھ جائے تو آندھی سے شکایت مت کر سر کی بازار سیاست میں نہیں ہے قیمت سر پہ جب تاج نہیں ہے تو حکومت مت کر خواب ہو

اپنے ہی خون سے اس طرح عداوت مت کر Read More »