موت نے مسکرا کے پوچھا ہے
غزل موت نے مسکرا کے پوچھا ہے زندگی کا مزاج کیسا ہے اس کی آنکھوں میں میری غزلیں ہیں میری غزلوں میں اس کا چہرا ہے اس سے پوچھو عذاب رستوں کا جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے چاندنی صرف ہے فریب نظر چاند کے گھر میں بھی اندھیرا ہے عشق میں بھی مزہ […]
موت نے مسکرا کے پوچھا ہے Read More »