MOJ E SUKHAN

نام خوشبو تھا سراپا بھی غزل جیسا تھا

غزل

نام خوشبو تھا سراپا بھی غزل جیسا تھا
چاند سے چہرے پہ پردہ بھی غزل جیسا تھا

سارے الفاظ غزل جیسے تھے گفتار کے وقت
رنگ اظہار تمنا بھی غزل جیسا تھا

پھول ہی پھول تھے کلیاں تھیں حسیں گلیاں تھیں
آپ کے گھر کا وہ رستہ بھی غزل جیسا تھا

اس کی آنکھیں بھی حسیں آنکھ میں آنسو بھی حسیں
غم میں ڈوبا ہوا چہرہ بھی غزل جیسا تھا

وہ جوانی وہ محبت وہ شرارت کا نشہ
وہ مری عمر کا حصہ بھی غزل جیسا تھا

فاصلے تھے نہ جدائی تھی نہ تنہائی تھی
تیری قربت کا وہ لمحہ بھی غزل جیسا تھا

وہ نہ میرا نہ میں اس کا تھا مگر اے داناؔ
دھندلا دھندلا سا وہ رشتہ بھی غزل جیسا تھا

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم