MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں جبر شوق میں کیا کاغذوں پہ لکھتا رہا

غزل میں جبر شوق میں کیا کاغذوں پہ لکھتا رہا تری گلی کی ہوا کاغذوں پہ لکھتا رہا ترے جمال کی کرنیں ترے خیال کی لو میں روشنی کا پتہ کاغذوں پہ لکھتا رہا حصول رزق بھی لازم تھا اور محبت بھی میں نان شب کا گدا کاغذوں پہ لکھتا رہا ردائے عشق جسے بھی […]

میں جبر شوق میں کیا کاغذوں پہ لکھتا رہا Read More »

وطن سے دور اے پیارے پرندے

غزل وطن سے دور اے پیارے پرندے پریشاں حال دکھیارے پرندے ضرورت کے قفس میں قید ہیں سب خوشی سے درد کے مارے پرندے تلاش رزق میں نکلے گھروں سے سحر دم آنکھ کے تارے پرندے اڑے اپنے دکھوں کا بوجھ ڈھونے مثال من تھکے ہارے پرندے ہرے صحرائے چشم ان کے رہیں گے بہت

وطن سے دور اے پیارے پرندے Read More »

دل لگی اور چیز ہوتی ہے

غزل دل لگی اور چیز ہوتی ہے دلبری اور چیز ہوتی ہے رسم ہے یوں معانقہ کرنا دوستی اور چیز ہوتی ہے با وضو ہوں میں قبلہ رو بھی مگر بندگی اور چیز ہوتی ہے ان اجالوں کو روشنی نہ کہو روشنی اور چیز ہوتی ہے ہم تو لاشیں ہیں سانس لیتی ہوئی زندگی اور

دل لگی اور چیز ہوتی ہے Read More »

پنجۂ زیست میں پھنسا پنچھی

غزل پنجۂ زیست میں پھنسا پنچھی پھڑپھڑاتے ہوئے مرا پنچھی پر نکلتے ہی اک اڑان بھری اور پھر خواب ہو گیا پنچھی ناتواں ہے ابھی وجود ترا پھر مخالف بھی ہے ہوا پنچھی پھر پلٹ کر کبھی نہیں آیا قید سے ہو گیا رہا پنچھی جا دعائیں ہیں تیرے ساتھ مری اب محافظ ترا خدا

پنجۂ زیست میں پھنسا پنچھی Read More »

اور دنیا میں ہم نے کیا دیکھا

غزل اور دنیا میں ہم نے کیا دیکھا صرف تیرا ہی راستہ دیکھا اس نے سورج سے چار کیں آنکھیں جس نے منظر تھا رات کا دیکھا سسکیاں چاند کی سنیں ہم نے جب ستاروں کو ٹوٹتا دیکھا میرے دامن میں پیاس کتنی تھی میں نے دریا کا راستہ دیکھا حسن دیکھا تو انگلیاں کاٹیں

اور دنیا میں ہم نے کیا دیکھا Read More »

سن مرے دل کی ذرا آواز دوست

غزل سن مرے دل کی ذرا آواز دوست اے مرے محسن مرے ہم راز دوست دل میں ہے اک وحشت کرب و بلا تو مرے سینے میں بجتا ساز دوست جو تپش سورج کی سہہ سکتے نہیں وہ کیا کرتے نہیں پرواز دوست درد سہنے میں جنہیں لذت ملی پا سکے وہ لوگ ہی اعجاز

سن مرے دل کی ذرا آواز دوست Read More »

خواب ہو خواب میں آتے ہو چلے جاتے ہو

غزل خواب ہو خواب میں آتے ہو چلے جاتے ہو دید کا جام لنڈھاتے ہو چلے جاتے ہو کسی امید پہ دنیا میں مجھے زندہ رکھو آتے ہو آس بندھاتے ہو چلے جاتے ہو میری آنکھوں میں جو لاشہ ہے مرے خوابوں کا اس پہ روتے ہو رلاتے ہو چلے جاتے ہو قصۂ درد کسی

خواب ہو خواب میں آتے ہو چلے جاتے ہو Read More »

مسلسل امتحاں سے تھک چکا ہوں

غزل مسلسل امتحاں سے تھک چکا ہوں میں اب عمر رواں سے تھک چکا ہوں مجھے اب خاک مرقد میں چھپا دو کہ جسم ناتواں سے تھک چکا ہوں کوئی تو آ بسے دل میں مرے بھی اب اس خالی مکاں سے تھک چکا ہوں اب اپنی ذات بھی ہے بوجھ مجھ پر میں اس

مسلسل امتحاں سے تھک چکا ہوں Read More »

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے

غزل خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے زندگی کا نصاب تھے جب تھے اپنی انگلی پکڑ کے چلتے تھے خود کو ہم دستیاب تھے جب تھے طاق ماضی کے یہ اداس دیے شوق میں آفتاب تھے جب تھے اپنی آنکھوں میں اب کھٹکتے ہیں چشم یاراں کا خواب تھے جب تھے اب میسر کہاں ہیں

خواہشوں کی کتاب تھے جب تھے Read More »

اس کی وفا نہ میری وفا کا سوال تھا

غزل اس کی وفا نہ میری وفا کا سوال تھا دونوں ہی چپ تھے صرف انا کا سوال تھا اس کشمکش میں ختم ہوا رات کا سفر ضد تھی مری تو اس کی حیا کا سوال تھا سب منتظر تھے آسماں دیتا ہے کیا جواب پیاسے لبوں پہ کالی گھٹا کا سوال تھا مجبور ہم

اس کی وفا نہ میری وفا کا سوال تھا Read More »