MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وفاداری پہ دے دی جان غداری نہیں آئی

غزل

وفاداری پہ دے دی جان غداری نہیں آئی
ہمارے خون میں اب تک یہ بیماری نہیں آئی

خدا کا شکر صحبت کا اثر ہوتا نہیں ہم پر
اداکاروں میں رہ کر بھی اداکاری نہیں آئی

امیر شہر ہو کر بھی نہیں کوئی تری عزت
ترے حصے میں غیرت اور خودداری نہیں آئی

ہماری درس گاہوں کی نظامت ایسی بگڑی ہے
کتابیں پڑھ کے بھی بچوں میں ہشیاری نہیں آئی

لگائی آگ اس نے شہر میں اتنی صفائی سے
کہ اس کے گھر پہ اڑ کے اک بھی چنگاری نہیں آئی

ابھی سے کس لئے بیٹے کو بھیجیں نوکری کرنے
ہمارے دست و پا میں اتنی لاچاری نہیں آئی

میں نادانی پہ اپنی آج تک حیران ہوں داناؔ
کہ دنیا کو سمجھنے کی سمجھ داری نہیں آئی

عباس دانا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم