MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے

غزل ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے اپنے ماحول میں خود کو دیکھے ہوئے ایک دن ہم اچانک بڑے ہو گئے کھیل میں دوڑ کر اس کو چھوتے ہوئے سب گزرتے رہے صف بہ صف پاس سے میرے سینے پہ اک پھول رکھتے ہوئے جیسے یہ میز مٹی کا ہاتھی یہ پھول ایک کونے […]

ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے Read More »

سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم

غزل سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم خموشی کی زباں سمجھے نہیں ہم انا کی بات اب سننا پڑے گی وہ کیا سوچے گا جو روٹھے نہیں ہم ادھوری لگ رہی ہے جیت اس کو اسے ہارے ہوئے لگتے نہیں ہم ہمیں تو روک لو اٹھنے سے پہلے پلٹ کر دیکھنے والے نہیں ہم بچھڑنے

سیانے تھے مگر اتنے نہیں ہم Read More »

جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا

غزل جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا غلط موسم میں صحرا دیکھ آیا ڈگر اور منزلیں تو ایک سی تھیں وہ پھر مجھ سے جدا کیا دیکھ آیا ہر اک منظر کے پس منظر تھے اتنے بہت کچھ بے ارادہ دیکھ آیا کسی کو خاک دے کر آ رہا ہوں زمیں کا اصل چہرہ

جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا Read More »

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی

غزل وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی تمام بازی گروں کو مری ضرورت تھی وہ بات سوچ کے میں جس کو مدتوں جیتا بچھڑتے وقت بتانے کی کیا ضرورت تھی پتا نہیں یہ تمنائے قرب کب جاگی مجھے تو صرف اسے سوچنے کی عادت تھی خموشیوں نے پریشاں کیا تو

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی Read More »

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں

غزل انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں اب اسے ایسے ہی سمجھاتا ہوں میں کچھ ہوا کچھ دل دھڑکنے کی صدا شور میں کچھ سن نہیں پاتا ہوں میں بن کہے آؤں گا جب بھی آؤں گا منتظر آنکھوں سے گھبراتا ہوں میں یاد آتی ہے تری سنجیدگی اور پھر ہنستا چلا جاتا ہوں

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں Read More »

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے

غزل یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے ہمیں اک دوسرا اچھا لگا ہے سمجھنا ہے اسے نزدیک جا کر جسے مجھ سا برا اچھا لگا ہے یہ کیا ہر وقت جینے کی دعائیں یہاں ایسا بھی کیا اچھا لگا ہے سفر تو زندگی بھر کا ہے لیکن یہ وقفہ سا ذرا اچھا لگا ہے

یہ کچھ بدلاؤ سا اچھا لگا ہے Read More »

یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو

غزل یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو وہ ساتھ ہے تو ذرا ہماری خوشی تو دیکھو بہت حسیں رات ہے مگر تم تو سو رہے ہو نکل کے کمرے سے اک نظر چاندنی تو دیکھو جگہ جگہ سیل کے یہ دھبے یہ سرد بستر ہمارے کمرے سے دھوپ کی بے رخی تو

یہ چپکے چپکے نہ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو Read More »

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا

غزل جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا دھوپ اتنی تھی کہ سایا کر لیا اب ہماری مشکلیں کچھ کم ہوئیں دشمنوں نے ایک چہرا کر لیا ہاتھ کیا آیا سجا کر محفلیں اور بھی خود کو اکیلا کر لیا ہارنے کا حوصلہ تو تھا نہیں جیت میں دشمن کی حصہ کر لیا منزلوں پر

جھوٹ پر اس کے بھروسا کر لیا Read More »

ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا

غزل ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا کسی نے خط نہیں کھولا ہمارا پڑھائی چل رہی ہے زندگی کی ابھی اترا نہیں بستہ ہمارا معافی اور اتنی سی خطا پر سزا سے کام چل جاتا ہمارا کسی کو پھر بھی مہنگے لگ رہے تھے فقط سانسوں کا خرچہ تھا ہمارا یہیں تک اس شکایت کو

ہمیں تک رہ گیا قصہ ہمارا Read More »

آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی

غزل آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی ایک چہرے پر گزارا تھا کبھی آج سب کہتے ہیں جس کو ناخدا ہم نے اس کو پار اتارا تھا کبھی یہ مرے گھر کی فضا کو کیا ہوا کب یہاں میرا تمہارا تھا کبھی تھا مگر سب کچھ نہ تھا دریا کے پار اس کنارے بھی کنارا

آئنے کا ساتھ پیارا تھا کبھی Read More »