MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا

غزل بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا رفیق چھوٹ گیا ہے کہیں اڑانوں کا   حصار خواب میں آنکھیں پناہ لیتی ہوئی عجب خمار سا ماحول میں اذانوں کا   چراغ صبح سی بجھنے لگیں مری آنکھیں جب انتشار نہ دیکھا گیا گھرانوں کا   امان کہتے ہیں جس کو بس اک تصور ہے […]

بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا Read More »

کتنے بھولے ہوئے نغمات سنانے آئے

غزل کتنے بھولے ہوئے نغمات سنانے آئے پھر ترے خواب مجھے مجھ سے چرانے آئے پھر دھنک رنگ تمناؤں نے گھیرا مجھ کو پھر ترے خط مجھے دیوانہ بنانے آئے پھر تری یاد میں آنکھیں ہوئیں شبنم شبنم پھر وہی نیند نہ آنے کے زمانے آئے پھر ترا ذکر کیا باد صبا نے مجھ سے

کتنے بھولے ہوئے نغمات سنانے آئے Read More »

تمہاری خوشبو تھی ہم سفر تو ہمارا لہجہ ہی دوسرا تھا

غزل تمہاری خوشبو تھی ہم سفر تو ہمارا لہجہ ہی دوسرا تھا یہ عکس بھی آشنا سا ہے کچھ مگر وہ چہرہ ہی دوسرا تھا وہ ادھ کھلی کھڑکیوں کا موسم گزر گیا تو یہ راز جانا ادھر شناسائی تک نہیں تھی ادھر تقاضا ہی دوسرا تھا گلاب کھلتے تھے چاہتوں کے چراغ جلتے تھے

تمہاری خوشبو تھی ہم سفر تو ہمارا لہجہ ہی دوسرا تھا Read More »

کبھی کسک جدائی کی کبھی مہک وصال کی

غزل کبھی کسک جدائی کی کبھی مہک وصال کی قدم نہ تھے زمیں پہ جب وہ عمر تھی کمال کی کئی دنوں سے فکر کا افق اداس اداس ہے نہ جانے کھو گئی کہاں دھنک ترے خیال کی رفاقتوں کے وہ نشاں نہ جانے کھو گئے کہاں وہ خوشبوؤں کی رہ گزر وہ رتجگوں کی

کبھی کسک جدائی کی کبھی مہک وصال کی Read More »

وہ بھی کچھ بھولا ہوا تھا میں کچھ بھٹکا ہوا

غزل وہ بھی کچھ بھولا ہوا تھا میں کچھ بھٹکا ہوا راکھ میں چنگاریاں ڈھونڈی گئیں ایسا ہوا داستانیں ہی سنانی ہیں تو پھر اتنا تو ہو سننے والا شوق سے یہ کہہ اٹھے پھر کیا ہوا عمر کا ڈھلنا کسی کے کام تو آیا چلو آئنے کی حیرتیں کم ہو گئیں اچھا ہوا رات

وہ بھی کچھ بھولا ہوا تھا میں کچھ بھٹکا ہوا Read More »

سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا

غزل سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا اب کوئی خواب نہیں نیند اڑانے والا یہ وہ صحرا ہے سجھائے نہ اگر تو رستہ خاک ہو جائے یہاں خاک اڑانے والا کیا کرے آنکھ جو پتھرانے کی خواہش نہ کرے خواب ہو جائے اگر خواب دکھانے والا یاد آتا ہے کہ میں خود سے یہیں بچھڑا

سلسلہ ختم ہوا جلنے جلانے والا Read More »

پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے

غزل پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں ان چراغوں نے مری نیند اڑا رکھی ہے کیوں نہ آ جائے مہکنے کا ہنر لفظوں کو تیری چٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا

پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے Read More »

ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی

غزل ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی آج پھر یاد محبت کی کہانی آئی آج پھر نیند کو آنکھوں سے بچھڑتے دیکھا آج پھر یاد کوئی چوٹ پرانی آئی مدتوں بعد چلا ان پہ ہمارا جادو مدتوں بعد ہمیں بات بنانی آئی مدتوں بعد پشیماں ہوا دریا ہم سے مدتوں بعد ہمیں پیاس چھپانی

ٹھہری ٹھہری سی طبیعت میں روانی آئی Read More »

لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی

غزل لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے میرے تو پھر آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہشیاری بھی عمر بھر کس نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے وقت کم ہو تو سجا دیتی ہے بیماری

لوگ سہہ لیتے تھے ہنس کر کبھی بے زاری بھی Read More »

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے

غزل خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے اشاروں کو ترے پڑھنے کی جرأت اب ہوئی ہے عجب لہجے میں کرتے تھے در و دیوار باتیں مرے گھر کو بھی شاید میری عادت اب ہوئی ہے گماں ہوں یا حقیقت سوچنے کا وقت کب تک یہ ہو کر بھی نہ ہونے کی مصیبت اب

خموشی بس خموشی تھی اجازت اب ہوئی ہے Read More »