بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا
غزل بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا رفیق چھوٹ گیا ہے کہیں اڑانوں کا حصار خواب میں آنکھیں پناہ لیتی ہوئی عجب خمار سا ماحول میں اذانوں کا چراغ صبح سی بجھنے لگیں مری آنکھیں جب انتشار نہ دیکھا گیا گھرانوں کا امان کہتے ہیں جس کو بس اک تصور ہے […]
بدن میں اولیں احساس ہے تکانوں کا Read More »