MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا

غزل

جو کہتا ہے کہ دریا دیکھ آیا
غلط موسم میں صحرا دیکھ آیا

ڈگر اور منزلیں تو ایک سی تھیں
وہ پھر مجھ سے جدا کیا دیکھ آیا

ہر اک منظر کے پس منظر تھے اتنے
بہت کچھ بے ارادہ دیکھ آیا

کسی کو خاک دے کر آ رہا ہوں
زمیں کا اصل چہرہ دیکھ آیا

رکا محفل میں اتنی دیر تک میں
اجالوں کا بڑھاپا دیکھ آیا

تسلی اب ہوئی کچھ دل کو میرے
تری گلیوں کو سونا دیکھ آیا

تماشائی میں جاں اٹکی ہوئی تھی
پلٹ کر پھر کنارہ دیکھ آیا

بہت گدلا تھا پانی اس ندی کا
مگر میں اپنا چہرہ دیکھ آیا

میں اس حیرت میں شامل ہوں تو کیسے
نہ جانے وہ کہاں کیا دیکھ آیا

وہ منظر دائمی اتنا حسیں تھا
کہ میں ہی کچھ زیادہ دیکھ آیا

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم