MOJ E SUKHAN

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں

غزل

انتہا تک بات لے جاتا ہوں میں
اب اسے ایسے ہی سمجھاتا ہوں میں

کچھ ہوا کچھ دل دھڑکنے کی صدا
شور میں کچھ سن نہیں پاتا ہوں میں

بن کہے آؤں گا جب بھی آؤں گا
منتظر آنکھوں سے گھبراتا ہوں میں

یاد آتی ہے تری سنجیدگی
اور پھر ہنستا چلا جاتا ہوں میں

فاصلہ رکھ کے بھی کیا حاصل ہوا
آج بھی اس کا ہی کہلاتا ہوں میں

چھپ رہا ہوں آئنے کی آنکھ سے
تھوڑا تھوڑا روز دھندلاتا ہوں میں

اپنی ساری شان کھو دیتا ہے زخم
جب دوا کرتا نظر آتا ہوں میں

سچ تو یہ ہے مسترد کر کے اسے
اک طرح سے خود کو جھٹلاتا ہوں میں

آج اس پر بھی بھٹکنا پڑ گیا
روز جس رستے سے گھر آتا ہوں میں

شارق کیفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم