MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تیرے ہونٹوں کی خیر مانگی ہے

غزل

تیرے ہونٹوں کی خیر مانگی ہے
یعنی پھولوں کی خیر مانگی ہے

یہ خبر ہے کہ بادلوں نے ابھی
تیری زلفوں کی خیر مانگی ہے

سارے بجھتے ہوئے چراغوں نے
جلتی آنکھوں کی خیر مانگی ہے

کچھ فقیروں نے دان کے بدلے
کج کلاہوں کی خیر مانگی ہے

ڈولتے تخت اڑتے تاجوں نے
بادشاہوں کی خیر مانگی ہے

تیری بندیا نے تیرے جھمکوں نے
چاند تاروں کی خیر مانگی ہے

دوڑتی ہانپتی خزاؤں نے
لالہ زاروں کی خیر مانگی ہے

ایک سسی کے زخمی پیروں نے
ریگزاروں کی خیر مانگی ہے

افتخار شاہد ابو سعد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم