MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہوش آنے کے بعد دودھ پیا

غزل ہوش آنے کے بعد دودھ پیا اک زمانے کے بعد دودھ پیا پہلے اس کو منا کے لے آیا سیب کھانے کے بعد دودھ پیا ساری طاقت گداز لوگوں پر آزمانے کے بعد دودھ پیا اک ہجوم بلا سے اپنا آپ کھینچ لانے کے بعد دودھ پیا مسکرانے سے پہلے غم کھایا مسکرانے کے […]

ہوش آنے کے بعد دودھ پیا Read More »

گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے

غزل گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے دنیا چلتی ہے چند روٹیوں سے دل میں آئے کوئی کھری عورت یہ کنواں بھر گیا ہے کھوٹیوں سے آپ کو خوف ہے نشیبوں کا میں گرا ہوں بلند چوٹیوں سے پیار عنقا ہے جب جہاں سے ملے گوریوں کالیوں کلوٹیوں سے آخری انجمن سجاؤں گا نئے یاروں

گاڑیوں سے نہ تیری کوٹھیوں سے Read More »

کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت

غزل کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت اور میں سو گیا کتاب سمیت یہ کہا تھا ترا جواب نہیں پھر کوئی آ گیا جواب سمیت میں ترے خالی ہاتھ کے قربان مجھ سے ملنا مگر گلاب سمیت ملنے آیا ہے کوئی جان غزل میرؔ صاحب کے انتخاب سمیت نیند آتی ہے کروٹیں لے کر رنج کے

کوئی بیٹھا رہا شباب سمیت Read More »

تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے

غزل تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے یہ میری جان کا دشمن کہاں سے آتا ہے شریک جام نہیں ہوں مگر یہ سوچتا ہوں ترا بھرا ہوا برتن کہاں سے آتا ہے یہ پائلیں تو مری طبع زاد ہیں لیکن مرے کلام میں کنگن کہاں سے آتا ہے فلک کو دیکھ رہا ہوں

تمہاری یاد کا ساون کہاں سے آتا ہے Read More »

میں پریشان ہوں نئے گھر سے

غزل میں پریشان ہوں نئے گھر سے سارے دروازے لگتے ہیں سر سے قرطبہ تو بنا نہیں سکتا دل بناتا ہوں سنگ مرمر سے جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں جو گرجتے تھے آج وہ برسے مختصر یہ کہ خانماں برباد بستروں میں قیام کو ترسے میں نے طوطا بدل لیا اکرامؔ سرمئی رنگ کے

میں پریشان ہوں نئے گھر سے Read More »

شادماں شاد کام دل تو نہیں

غزل شادماں شاد کام دل تو نہیں آپ سے ہم کلام دل تو نہیں تیری آنکھوں کا نام آنکھیں ہیں تیری آنکھوں کا نام دل تو نہیں اک دھما چوکڑی ہے سینے میں یہ کہیں بے لگام دل تو نہیں زندگی اور دل برابر ہیں زندگی کا غلام دل تو نہیں دل کوئی اور چیز

شادماں شاد کام دل تو نہیں Read More »

صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ

غزل صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ دروں کا شور مری خامشی سے شرمندہ کہو تو آج ذرا سا سنوار لوں خود کو کہ آئنے ہیں مری سادگی سے شرمندہ عجیب دوہری عزت کا سامنا ہے انہیں کوئی کسی سے تو کوئی کسی سے شرمندہ ہمارے ہاتھ جو دستک نہ دے سکے در پر ہمارے

صدائے شوق سکوت لبی سے شرمندہ Read More »

بحر بے کنار تو

غزل بحر بے کنار تو میں ذرا سی آب جو عکس ہے خجل خجل آئنے کے رو بہ رو دوستوں نے دیکھ لی کر کے میری جستجو اب کئی دنوں سے ہوں میں ہی اپنے دو بدو پھول چن رہا تھا میں تم تھے محو گفتگو تیرے در کو چھوڑ کے پھر رہے ہیں کو

بحر بے کنار تو Read More »

وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں

غزل وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں جو رنج ماہ و سال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں ابھی مجھے خبر نہیں میں کس لئے اداس ہوں جو حزن ہے ملال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں غبار آرزو چھٹے تو پھر کوئی خبر ملے یہ ہجر ہے

وہ خواب یا خیال ہے میں جان لوں تو کچھ کہوں Read More »

زخم جب گفتگو نہیں کرتا

غزل زخم جب گفتگو نہیں کرتا چارہ گر بھی رفو نہیں کرتا شہر الفت کا وہ منافق ہے بات جو روبرو نہیں کرتا بات بے بات مسکراتا ہوں غم کو میں سرخ رو نہیں کرتا ہوک اندر سے اٹھ رہی ہے میاں میں دکھانے کو ہو نہیں کرتا ضبط کی آخری نشانی ہے میں اگر

زخم جب گفتگو نہیں کرتا Read More »