MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والے

غزل

شام ہوتے ہی چراغوں کو جلانے والے
لوٹ کے آتے نہیں چھوڑ کے جانے والے

تو مری آنکھ کو بھایا ہے مرے دل کو نہیں
تیرے اطوار تو لگتے ہیں زمانے والے

عمر بھر تجھ کو مرا خواب نہیں آئے گا
وصل کی شام مرا ہجر منانے والے

یعنی کچھ روز تجھے چھوڑ کے میں بھی خوش تھا
مجھ کو یہ بات بتاتے ہیں بتانے والے

زندگی آج تجھے چھوڑ دیا ہے ہم نے
ہم نہیں آج ترے ناز اٹھانے والے

تو نے دیکھی مرے ہاتھوں کی مہارت لیکن
وہ مرے پاؤں مرا چاک گھمانے والے

شوق نظارہ لئے آنکھ کدھر جائے گی
حسن والے ہیں ترے شہر سے جانے والے

یہ بھی ممکن ہے ہوا کوئی تماشا کر دے
ہم ترے نام کی شمعیں ہیں جلانے والے

افتخخار شاہد ابو سعد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم