MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ناز بردار !چپ رہو یونہی

غزل ناز بردار !چپ رہو یونہیاب خبردار! چپ رہو یونہیآخری بار یہ صدا آئےمیرے بیمار چپ رہو یونہیاس نے بولا کہ اک نظر مجھ پرکہہ دیا یار! چپ رہو یونہیاچھا خاصہ بگڑ گیا ہوں میںتم تو اس بار چپ رہو یونہیلکھ رہا ہوں سلگتی مٹی پرغم کے آثار چپ رہو یونہیمیرا کردار مرنے والا ہےمیرے […]

ناز بردار !چپ رہو یونہی Read More »

اتار پھینکو لباس تن سے یہ شہرِ دل کا رواج نئیں ہے

غزل اتار پھینکو لباس تن سے یہ شہرِ دل کا رواج نئیں ہےمیں شاہزادہ ہوں پاس میرے قلم تو ہے سر پہ تاج نئیں ہےفضول باتوں میں صرف کردی حیات جتنی تھی پاس میرےکہا سنا معذرت کہ پاسِ وفا کی بھی مجھ میں لاج نئیں ہےحریف میرے مقابلے میں کھڑے ہوئے ہیں تو کیا کروں

اتار پھینکو لباس تن سے یہ شہرِ دل کا رواج نئیں ہے Read More »

پھولوں جیسا جسم ہے اس کا نازک نازک ہاتھ

غزل پھولوں جیسا جسم ہے اس کا نازک نازک ہاتھدیکھ کے اس کو کیسے رہیں گے قابو میں جذباتجس نے ہم کو چھوڑ دیا تھا تنہا کرکے دوستوقت ملا تو ہم بھی اس سے پوچھیں گے حالاتایسا نئیں ہے اس کا مجھ پر رعب چلے ہر وقتکاٹ بھی سکتا ہوں میں اس کی اچھی خاصی

پھولوں جیسا جسم ہے اس کا نازک نازک ہاتھ Read More »

میں سوچ سوچ کے آنکھوں کو نم نہیں کروں گا

غزل میں سوچ سوچ کے آنکھوں کو نم نہیں کروں گا‎تری جدائی میں اب کوئی غم نہیں کروں گا‎‎اٹھائے رکھوں گا سب ناز تیرے ہاتھوں پر‎میں ایرے غیرے سے اس کو رقم کروں گا‎‎بغور دیکھوں گا حالات اپنے پیچیدہ‎ترے خیال کو آنکھوں میں ضم نہیں کروں گا‎‎لکھوں گا وقت کے حالات پر میں طنزیہ شعر‎سلگتی

میں سوچ سوچ کے آنکھوں کو نم نہیں کروں گا Read More »

رات کا شور تھم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی

غزل رات کا شور تھم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی آنکھوں میں خواب جم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی پھر سے ترے خیال میں جلتا رہا لہو مرا روح میں کوئی غم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی ایسی کرشمہ سازیاں دیکھی ہیں میں نے رات میں ہاتھوں سے جب قلم گیا صبح

رات کا شور تھم گیا صبح کی آنکھ کھل گئی Read More »

کوئی بھی شخص پہلے کے جیسا نہیں رہا

غزل کوئی بھی شخص پہلے کے جیسا نہیں رہا اُس پر یہ ظُلم میں بھی وہاں کا نہیں رہا اُس نے کہا کہ دیکھ مرے ہاتھ میں نصیب مَیں نے کہا کہ وقت بُرا تھا نہیں رہا اُس نے کہا کہ آنکھ کی حیرت بحال کر مَیں نے کہا کہ آنکھ میں دریا نہیں رہا

کوئی بھی شخص پہلے کے جیسا نہیں رہا Read More »

خواب میں تیر چل گیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی

غزل خواب میں تیر چل گیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی جانے مجھے یہ کیا ہوا آنکھوں سے نیند اڑ گئی ہائے شکستہ دل مرا کہتا رہا یہ بار بار کس نے مجھے ڈرا دیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی بیٹھے ہیں کس سکون سے ہاتھوں پہ اپنا دل لیے جب سے وہ دلربا گیا

خواب میں تیر چل گیا آنکھوں سے نیند اڑ گئی Read More »

کچھ بھی ہو جائے میں اسباب نہیں دیکھوں گا

غزل کچھ بھی ہو جائے میں اسباب نہیں دیکھوں گا تجھ سے ملنے کے کبھی خواب،نہیں دیکھوں گا چپ رہوں گا میں بھرے مجمع میں لیکن مرے دوست خوف و دہشت زدہ اعصاب نہیں دیکھوں گا یونہی خاموش رہوں گا میں تری محفل میں تجھ کو ہوتا ہوا بیتاب نہیں دیکھوں گا میں بھی اس

کچھ بھی ہو جائے میں اسباب نہیں دیکھوں گا Read More »

کہیں صُبحِ غَم کا سوال ہے کہیں شامِ غَم کا مَلال ہے

غزل کہیں صُبحِ غَم کا سوال ہے کہیں شامِ غَم کا مَلال ہے کہیں شور ہے سَرِ آئنہ کہیں آپ اپنا خََیال ہے مَیں گُزر گیا غَمِ زِندگی ترے اُس نَگَر سے جَہاں کبھی مرا ہاتھ تھا ترے ہاتھ میں جہاں زِندہ رہنا محال ہے اِسی کَشمکَش میں رقیب نے مُجھے زہر غَم کا پِلا

کہیں صُبحِ غَم کا سوال ہے کہیں شامِ غَم کا مَلال ہے Read More »

اس عالم میں دیکھنے والے تو نے دیکھا کیا کیا کچھ

غزل اس عالم میں دیکھنے والے تو نے دیکھا کیا کیا کچھ منظر منظر ایک تحیر اس میں بہتا ہوگا کچھ وہ آنکھیں وہ جھیل سی آنکھیں ان میں ڈوب کے جانا ہے اور پھر سب کو دیکھنا ہوگا اس میں منظر جیسا کچھ اول اول اس کے جسم کی خوشبو سے دل شاد ہوا

اس عالم میں دیکھنے والے تو نے دیکھا کیا کیا کچھ Read More »