MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں

غزل تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں یہ مگر ترک محبت تو نہیں میری آنکھوں میں اترنے والے ڈوب جانا تری عادت تو نہیں تجھ سے بیگانے کا غم ہے ورنہ مجھ کو خود اپنی ضرورت تو نہیں کھل کے رو لوں تو ذرا جی سنبھلے مسکرانا ہی مسرت تو نہیں تجھ سے فرہاد […]

تجھ کو اب کوئی شکایت تو نہیں Read More »

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

غزل کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے لب ساحل سے جو ہلکا سا اشارا ہوتا تم ہی واقف نہ تھے آداب جفا سے ورنہ ہم نے ہر ظلم کو ہنس ہنس کے سہارا ہوتا غم تو خیر

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا Read More »

کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے

غزل کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے اٹھا کے اگلے زمانے میں رکھ لیا ہے مجھے وہ مجھ سے اپنے تحفظ کی بھیک لے کے گیا اور اب اسی نے نشانے میں رکھ لیا ہے مجھے میں کھیل ہار چکا ہوں تری شراکت میں کہ تو نے مات کے خانے میں رکھ

کسی نے کیسے خزانے میں رکھ لیا ہے مجھے Read More »

عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے

غزل عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے محبتوں کو کوئی بد دعا لگی ہوئی ہے پناہ دیتی ہے ہم کو نشے کی بے خبری ہمارے بیچ خبر کی بلا لگی ہوئی ہے کمال ہے نظر انداز کرنا دریا کو اگرچہ پیاس بھی بے انتہا لگی ہوئی ہے پلک جھپکتے ہی خواہش نے کینوس

عداوتوں میں جو خلق خدا لگی ہوئی ہے Read More »

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے

غزل حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے میں بھی رکتا ہوں مگر ریگ رواں کی صورت میرا ٹھہراؤ روانی کی طرح ہوتا ہے تیرے جاتے ہی میں شکنوں سے نہ بھر جاؤں کہیں کیوں جدا مجھ سے جوانی کی طرح ہوتا ہے جسم تھکتا نہیں

حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے Read More »

رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے

غزل رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے آنکھیں بھی چاہیے دل بینا بھی چاہیے ان کی گلی میں ایک مہینہ گزار کر کہنا کہ اور ایک مہینہ بھی چاہیے مہکے گا ان کے در پہ کہ زخم دہن ہے یہ واپس جب آؤ تو اسے سینا بھی چاہیے رونا تو چاہیے ہے کہ

رخت سفر ہے اس میں قرینہ بھی چاہیے Read More »

دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میں

غزل دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میں روشنی میں بدل رہا ہوں میں ٹوٹتا ہے تو ٹوٹ جانے دو آئنے سے نکل رہا ہوں میں رزق ملتا ہے کتنی مشکل سے جیسے پتھر میں پل رہا ہوں میں ہر خزانے کو مار دی ٹھوکر اور اب ہاتھ مل رہا ہوں میں خوف غرقاب

دکھ نہیں ہے کہ جل رہا ہوں میں Read More »

ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے

غزل ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے کچھ دن پہلے تک تو سب کے تیور اچھے تھے دیکھ رہا ہے جس حیرت سے پاگل کر دے گا آئینے سے ڈر لگتا ہے پتھر اچھے تھے نادیدہ آزار بدن کو غارت کر دے گا زخم جو دل میں جا اترے ہیں باہر

ان لوگوں میں رہنے سے ہم بے گھر اچھے تھے Read More »

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے

غزل ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے مہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہے ہے کوئی سخی اس کی طرف دیکھنے والا یہ ہاتھ بڑی دیر سے پھیلایا ہوا ہے حصہ ہے کسی اور کا اس کار زیاں میں سرمایہ کسی اور کا لگوایا ہوا ہے سانپوں میں عصا پھینک کے اب محو دعا

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے Read More »

اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میں

غزل اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میں گر پڑا ہاتھ سے آئینہ پریشانی میں آ گئے ہو تو برابر ہی میں خیمہ کر لو میں تو رہتا ہوں اسی بے سر و سامانی میں اس قدر غور سے مت دیکھ بھنور کی جانب تو بھی چکرا کے نہ گر جائے کہیں پانی میں

اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میں Read More »