MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کبھی تائید کرتا ہے کبھی تنقید کرتا ہے

غزل کبھی تائید کرتا ہے کبھی تنقید کرتا ہے محبت میں محض تقلید کی تردید کرتا ہے یکایک نام لے کر نیم خوابیدہ سے لہجے میں مرے ہر جاگتے لمحے کو وہ خوابید کرتا ہے وہ حاوی اس قدر ہونے لگا کہ اب خیالوں کی کبھی تحریف کرتا ہے, کبھی تجرید کرتا ہے پرکھتا ہے […]

کبھی تائید کرتا ہے کبھی تنقید کرتا ہے Read More »

بتاؤ کون کہتا ہے, محبت بس کہانی ہے

غزل بتاؤ کون کہتا ہے, محبت بس کہانی ہے محبت تو صحیفہ ہے, محبت آسمانی ہے محبت کو خدارا تم ,کبھی اک کھیل مت سمجھو محبت معجزہ ہے__ معجزوں کی ترجمانی ہے محبت پھول کی خوشبو, محبت رنگ تتلی کا محبت پربتوں کی جھیل کا شفاف پانی ہے محبت اک اشارہ ہے, وفا کا استعارہ

بتاؤ کون کہتا ہے, محبت بس کہانی ہے Read More »

میں اس زمین کی مٹی مجھے خدا نہ کہو

غزل تمہارا ذوق پرستش مجھے عزیز مگر میں اس زمین کی مٹی مجھے خدا نہ کہو تمہارے ساتھ اگر دو قدم بھی چل نہ سکوں تو خستہ پا ہوں مجھے مجرم وفا نہ کہو یہ ایک پل کی دھڑکتی حیات بھی ہے بہت تمام عمر کے اس روگ کو برا نہ کہو اس ایک خوف

میں اس زمین کی مٹی مجھے خدا نہ کہو Read More »

زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤ

غزل زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤ ہمدمو مر کے بھی جیے جاؤ امتحان وفا ہمیں منظور انتہائے ستم کیے جاؤ کھل نہ جائے فریب چارہ گری زخم ہر حال میں سیے جاؤ راکھ کا ڈھیر ہیں مہ و انجم راکھ میں جستجو کیے جاؤ رہروی کا یہی تقاضا ہے راہزن کو دعا دیے جاؤ

زہر شیریں ہے سچ پیے جاؤ Read More »

سنوارے آخرت یا زندگی کو

غزل سنوارے آخرت یا زندگی کو کہاں اتنی بھی مہلت آدمی کو بجھائی آنسوؤں نے آتش غم مگر بھڑکا دیا ہے بیکلی کو بھرم کھل جائے گا دانائیوں کا پکارو تو ذرا دیوانگی کو جو سر جھکتا نہیں ہے دل تو جھک جائے فقط اتنی طلب ہے بندگی کو جو دل سے پھوٹ کر آنکھوں

سنوارے آخرت یا زندگی کو Read More »

چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے

غزل چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے یہ چہرہ کتنا جانا پہچانا ہے ساری بستی چپ کی دھند میں ڈوبی ہے جس نے لب کھولے ہیں وہ دیوانا ہے آؤ اس سقراط کا استقبال کریں جس نے زہر کے گھونٹ کو امرت جانا ہے اک اک کر کے سب پنچھی دم توڑ گئے بھری

چوٹ نئی ہے لیکن زخم پرانا ہے Read More »

ایسے لمحات بھی گزرتے ہیں

غزل ایسے لمحات بھی گزرتے ہیں جب نہ جیتے ہیں ہم نہ مرتے ہیں ہم کہ شاعر ہیں دل کو خوں کر کے اپنے گیتوں میں رنگ بھرتے ہیں زندگی کی حقیقتوں کے گہر بحر اندیشہ سے ابھرتے ہیں کس قدر ہوشیار ہیں ہم بھی اپنی دیوانگی سے ڈرتے ہیں اک ذرا سی خوشی کی

ایسے لمحات بھی گزرتے ہیں Read More »

بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوں

غزل بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوں یاد آ جائے تو خود اپنا تماشا دیکھوں مسکراتی ہوئی ان آنکھوں کی شادابی میں میں تری روح کا تپتا ہوا صحرا دیکھوں اتنی یادیں ہیں کہ جمنے نہیں پاتی ہے نظر بند آنکھوں کے دریچوں سے میں کیا کیا دیکھوں وقت کی دھول سے

بھول کر تجھ کو بھرا شہر بھی تنہا دیکھوں Read More »

تم نے دل کے دیے بجھائے ہیں

غزل تم نے دل کے دیے بجھائے ہیں ہم غموں کے چراغ لائے ہیں تم سے اب ہم گلہ کریں بھی تو کیا ہم نے خود ہی فریب کھائے ہیں صف بہ صف روشنی کے پردے میں ظلمتوں کے مہیب سائے ہیں تم نے محلوں کی روشنی کے لیے کتنے معصوم دل جلائے ہیں قتل

تم نے دل کے دیے بجھائے ہیں Read More »

اجڑا ہوا شہر پھر بساؤں

غزل اجڑا ہوا شہر پھر بساؤں یہ حوصلہ اب کہاں سے لاؤں ٹوٹے ہوئے آئنے میں خود کو میں دیکھ جو لوں تو ڈر نہ جاؤں زخموں سے بھرے چمن میں رہ کر پھولوں سے مہکتے گیت گاؤں اے کاش وفا کی روشنی سے امید کا اک دیا جلاؤں تجدید وفا کے آسرے پر زخموں

اجڑا ہوا شہر پھر بساؤں Read More »