کبھی تائید کرتا ہے کبھی تنقید کرتا ہے
غزل کبھی تائید کرتا ہے کبھی تنقید کرتا ہے محبت میں محض تقلید کی تردید کرتا ہے یکایک نام لے کر نیم خوابیدہ سے لہجے میں مرے ہر جاگتے لمحے کو وہ خوابید کرتا ہے وہ حاوی اس قدر ہونے لگا کہ اب خیالوں کی کبھی تحریف کرتا ہے, کبھی تجرید کرتا ہے پرکھتا ہے […]
کبھی تائید کرتا ہے کبھی تنقید کرتا ہے Read More »