MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا

غزل یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا میرا سوال خلق خدا تک نہیں گیا پھر یوں ہوا کہ ہاتھ سے کشکول گر پڑا خیرات لے کے مجھ سے چلا تک نہیں گیا مصلوب ہو رہا تھا مگر ہنس رہا تھا میں آنکھوں میں اشک لے کے خدا تک نہیں گیا جو برف […]

یہ بھی نہیں کہ دست دعا تک نہیں گیا Read More »

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے

غزل گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے کرتے ہیں بہت لوگ مگر ہم نہیں کرتے ہے اپنی طبیعت میں جو خامی تو یہی ہے ہم عشق تو کرتے ہیں مگر کم نہیں کرتے نفرت سے تو بہتر ہے کہ رستے ہی جدا ہوں بے کار گزر گاہوں کو باہم نہیں کرتے ہر سانس

گر جائے جو دیوار تو ماتم نہیں کرتے Read More »

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا

غزل مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا سورج کو رو رہا ہوں خدایا کہاں گیا پھر آئنے میں خون دکھائی دیا مجھے آنکھوں میں آ گیا تو چھپایا کہاں گیا آواز دے رہا تھا کوئی مجھ کو خواب میں لیکن خبر نہیں کہ بلایا کہاں گیا کتنے چراغ گھر میں جلائے

مجھ کو یہ فکر کب ہے کہ سایہ کہاں گیا Read More »

معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا

غزل میں زخم کھا کے گرا تھا کہ تھام اس نے لیا معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا میں سو گیا تو کوئی نیند سے اٹھا مجھ میں پھر اپنے ہاتھ میں سب انتظام اس نے لیا کبھی بھلایا کبھی یاد کر لیا اس کو یہ کام ہے تو بہت مجھ سے کام

معاف کر کے مجھے انتقام اس نے لیا Read More »

تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوست

غزل تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوست کتنی تیزی سے بدلتا ہے زمانہ مرے دوست جانے کس کام میں مصروف رہا برسوں تک یاد آیا ہی نہیں تجھ کو بھلانا مرے دوست پوچھنا مت کہ یہ کیا حال بنا رکھا ہے آئینہ بن کے مرا دل نہ دکھانا مرے دوست اس ملاقات میں

تیری آنکھیں نہ رہیں آئینہ خانہ مرے دوست Read More »

آزادی نظم

آزادی شہر لا مکاں سے ہوں جس میں اک مکاں میرا خواب سے ابھرتا ہے دودھیا سویرا سا دھیان میں نکھرتا ہے جو حدوں سے عاری ہے انتہا نہیں رکھتا چوکھٹیں دریچے در کیا گمان میں آئیں (صحن آنگن اور دیوار کا خیال ہی بے کار) چار سمت کی دیوار چاہے کتنی پھیلی ہو آپ

آزادی نظم Read More »

جہانِ خواب نظم

جہانِ خواب یہ رنگ و نکہت میں بہتی دنیا یہ حسن صورت یہ جلوہ گاہیں یہ بجلیوں سی لپک ادا کی یہ بدلیوں سی گداز بانہیں یہ نقش سے پھوٹتے کرشمے یہ نکہت و نور کی پناہیں اک آرزو کے ہزار پیکر اک التجا لاکھ بارگاہیں حیات کے سرفرازی چشمے نشہ پلاتی ہوئی نگاہیں جمال

جہانِ خواب نظم Read More »

خود کو دیکھا ہے تو آئینے پریشاں سے لگے

غزل ث خود کو دیکھا ہے تو آئینے پریشاں سے لگے وقت کٹتا رہا تھا عہد حضوری کہ فراق زخم لگتے رہے چاہے کسی عنواں سے لگے زندگی میرے اضافے مجھے واپس کر دے جھاڑ دے خار جو ناحق ترے داماں سے لگے کچھ تو تھی سادگی کچھ بے خبری بے ہنری کچھ ہمیں عشق

خود کو دیکھا ہے تو آئینے پریشاں سے لگے Read More »

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے

غزل پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے روبرو کون تھا جو آئنے حیراں سے لگے کچھ تھی کم حوصلگی اپنی تھی کچھ بے بصری کچھ ہمیں عشق کے ہنگامے بھی آساں سے لگے زندگی میرے اضافے مجھے واپس کر دے جھاڑ دے خار جو ناحق ترے داماں سے لگے وقت کٹتا

پھر مجھے کون و مکاں دشت و بیاباں سے لگے Read More »

کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہے

غزل کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہے ابھی کھلتا نہیں کیا وقت کا تیور بدلتا ہے یہ دیکھا ہے کہ محور استوا اوپر بدلتا ہے فلک صدیوں پرانی نیلگوں چادر بدلتا ہے دلوں میں سوز غم والے دھوئیں بھی آرزوئیں بھی عجم والا مسلماں ہر صدی میں گھر بدلتا ہے نشاں کردہ

کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہے Read More »