MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا

غزل

کاش طوفاں میں سفینے کو اتارا ہوتا
ڈوب جاتا بھی تو موجوں نے ابھارا ہوتا

ہم تو ساحل کا تصور بھی مٹا سکتے تھے
لب ساحل سے جو ہلکا سا اشارا ہوتا

تم ہی واقف نہ تھے آداب جفا سے ورنہ
ہم نے ہر ظلم کو ہنس ہنس کے سہارا ہوتا

غم تو خیر اپنا مقدر ہے سو اس کا کیا ذکر
زہر بھی ہم کو بصد شوق گوارا ہوتا

باغباں تیری عنایت کا بھرم کیوں کھلتا
ایک بھی پھول جو گلشن میں ہمارا ہوتا

تم پر اسرار فنا راز بقا کھل جاتے
تم نے ایک بار تو یزداں کو پکارا ہوتا

پروین فنا سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم