MOJ E SUKHAN

اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میں

غزل

اس نے دیکھا جو مجھے عالم حیرانی میں
گر پڑا ہاتھ سے آئینہ پریشانی میں

آ گئے ہو تو برابر ہی میں خیمہ کر لو
میں تو رہتا ہوں اسی بے سر و سامانی میں

اس قدر غور سے مت دیکھ بھنور کی جانب
تو بھی چکرا کے نہ گر جائے کہیں پانی میں

کبھی دیکھا ہی نہیں اس نے پریشاں مجھ کو
میں کہ رہتا ہوں سدا اپنی نگہبانی میں

وہ مرا دوست تھا دشمن تو نہیں تھا فیصلؔ
میں نے ہر بات بتا دی اسے نادانی میں

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم