MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دونوں آنکھوں میں بھر لیا جائے

غزل دونوں آنکھوں میں بھر لیا جائے حسن محفوظ کر لیا جائے زندگی سے کلام کرنے کو اذن نور سحر لیا جائے ہم سے پاداش میں محبت کی جان لی جائے سر لیا جائے بے خطا ہے تو پھر بھی ڈر اے دوست بے خطا ہی نہ دھر لیا جائے شہر امید کتنا دل کش […]

دونوں آنکھوں میں بھر لیا جائے Read More »

فیض عہد جدید تنہائی

غزل فیض عہد جدید تنہائی سہہ رہا ہوں شدید تنہائی بڑھتا جاتا ہے حلقۂ احباب بڑھ رہی ہے مزید تنہائی ہے جہاں تک بھی سوچ سناٹا ہے جہاں تک بھی دید تنہائی بیٹھ کر دوستوں کی محفل میں کر رہا ہوں کشید تنہائی پاس حبل الورید کے ہے خدا زیر حبل الورید تنہائی گھر سے

فیض عہد جدید تنہائی Read More »

کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے

غزل کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے عشق میرے لیے نیا نہیں ہے تجھ کو ہر بات کا پتہ نہیں ہے تو مرا عشق ہے خدا نہیں ہے یوں نشانے نہ تاک تاک کے مار ایک ہی دل ہے دوسرا نہیں ہے یہ جو ہم روز لفظ بنتے ہیں مسئلہ ہے یہ مشغلہ نہیں ہے

کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے Read More »

تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کے

غزل تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کے آج ذرا کھل کھیلنے والے ہیں انداز گھٹاؤں کے کمرہ بند کیا اور سارے ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے آنکھیں ڈھیلی چھوڑیں رستے کھول دیے دریاؤں کے دوگانہ آزار ہے صاحب ہم جیسوں کی قسمت میں ہم محتاج رویوں کے اور ہم مجبور اناؤں کے

تیور بھید بتاتے ہیں یہ نم آلود ہواؤں کے Read More »

زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہے

غزل زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہے رات گئے تنہائی جس دم شور مچانے لگ جاتی ہے عشق دماغ کی چکر بازی حسن سراسر دید کا دھوکہ دل کو یہ سب کہتے کہتے عمر ٹھکانے لگ جاتی ہے اس شرمیلی سی لڑکی سے جب بھی دل کی حالت پوچھی سیدھی

زخم دکھانے لگ جاتی ہے جان کو آنے لگ جاتی ہے Read More »

بچوں کے کھیل تحریر ایم کے مہتاب

بچوں کے کھیل تحریر ایم کے مہتاب بچے جب مل بیٹھتے ہیں تو کوئی نہ کوئی کھیل ضرور شروع ہو جاتا ہے۔ خواہ کوئی ملک ہو یا کوئی موسم، بچوں کو کھیلنے سے باز نہیں رکھا جا سکتا۔ کچھ کھیل ایسے ہوتے ہیں جو کمروں میں کھیلے جاتے ہیں اور کچھ میدانی کھیل ہوتے ہیں۔

بچوں کے کھیل تحریر ایم کے مہتاب Read More »

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے

غزل بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے میرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شب وعدہ جانے ترے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے سچ ہے کہ محبت میں ہمیں موت نے مارا کچھ اس میں تمہاری بھی خطا ہے کہ نہیں ہے مت

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے Read More »

تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا

غزل تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا دو روز میں گلاب سا چہرہ اتر گیا میں نے ہوا میں سکہ اچھالا تھا اور بس ہاتھوں میں جو نصیب تھا میرا بکھر گیا جان بہار تم نے وہ کانٹے چبھوئے ہیں میں ہر گل شگفتہ کو چھونے سے ڈر گیا اس

تم سے نہ مل کے خوش ہیں وہ دعویٰ کدھر گیا Read More »

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے

غزل بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے میرے کسی پہلو میں قضا ہے کہ نہیں ہے سنتا ہوں اک آہٹ سی برابر شب وعدہ جانے ترے قدموں کی صدا ہے کہ نہیں ہے سچ ہے کہ محبت میں ہمیں موت نے مارا کچھ اس میں تمہاری بھی خطا ہے کہ نہیں ہے مت

بیمار محبت کی دوا ہے کہ نہیں ہے Read More »

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی

غزل در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی پھر یہ بارش میری تنہائی چرانے آئی زندگی باپ کی مانند سزا دیتی ہے رحم دل ماں کی طرح موت بچانے آئی آج کل پھر دل برباد کی باتیں ہیں وہی ہم تو سمجھے تھے کہ کچھ عقل ٹھکانے آئی دل میں آہٹ سی ہوئی روح

در و دیوار پہ شکلیں سی بنانے آئی Read More »