MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے

غزل خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے مگر جو شخص کل ابھرے گا میرے خواب میں ہے جہان والوں کے لاکھوں ادھر ادھر کے جواب حیات کا تو سوال آدمی کے باب میں ہے ہمیں نہ گھیرتی شاید یہ چار دیواری مگر یہ خاک جو اس عالم خراب میں ہے خود اپنے […]

خبر نہیں کہ کوئی کس کے انتخاب میں ہے Read More »

کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے

غزل کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے خود آئینوں کا بھی احساں قبول کیا کرتے وہ کھیت کھیت رہیں جن کی خار دار صفیں انہی میں پھول تھے دو چار پھول کیا کرتے تمام جانوں کے دشمن تمام ہاتھ ہوئے یہ امتیں تھیں اب ان کے رسول کیا کرتے یہ کوئی عمر تھی

کسی سے اپنی خبر ہم وصول کیا کرتے Read More »

ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار

غزل ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار فضائے شہر بنی بیش و کم در و دیوار یہی تھے صحن فضا اور یہی گھر آنگن تھا تم آئے ہو تو ہوئے محتشم در و دیوار ہم اپنے درد ہواؤں سے بھی نہیں کہتے اٹھائے پھرتے ہیں خود اپنے غم در و دیوار

ہر ایک گام پہ حد ہر قدم در و دیوار Read More »

آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے

غزل آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے اپنے ہی داغ نظر بھر دیکھے تم نے جلوے کو بھی چھونا چاہا ہم نے خوشبو میں بھی پیکر دیکھے آپ انساں ہوا صورت کا اسیر شیشہ ٹوٹے تو سکندر دیکھے ہم نے آواز لگائی سر طور روپ جب شوق سے کمتر دیکھے جلوۂ طور بجا تھا لیکن آنکھ

آئنہ آئنہ کیوں کر دیکھے Read More »

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے

غزل ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے پھر یہ پوچھوں کہ یہ پردا ہے تو جلوہ کیا ہے دونوں آنکھوں میں ہے اک جلوہ تو دو آنکھیں کیوں پتلیوں کا یہ تماشا سا وگر نہ کیا ہے تو نے پہچان لئے اپنی خدائی کے نقوش آئینہ جس نے تعارف یہ کرایا کیا

ہوش میں آؤں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے Read More »

اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانی

غزل اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانی فریب کھاتے ہوئے گزرنی ہے زندگانی تو ہار مانی اگر محبت ترا رویہ ہے پھر پرایا تو باز آیا اگر زمانے تری روش ہے وہی پرانی تو ہار مانی ہم اپنا جیون ہم اپنی خوشیاں ہم اپنا سب کچھ لٹا چکے ہیں اگر

اگر سنانی ہے ہر قدم پر نئی کہانی تو ہار مانی Read More »

گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھی

غزل گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھی تمہاری یاد کی جلوہ گری تھی فضا میں گنگناہٹ تھی عجب سی ہوا پتوں سے باتیں کر رہی تھی غزل جیسا سراپا تھا کسی کا کوئی صورت مکمل شاعری تھی ترے الفاظ نشتر بن گئے تھے محبت انتہا پر آ گئی تھی سنا ہے بعد میرے کچھ دنوں

گزشتہ شب جو اتنی روشنی تھی Read More »

ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہے

غزل ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہے اس کھڑکی کے پار انوکھی دنیا ہے آپ کا استحقاق تھا راہ بدل لینا سب کا اپنا جیون اپنی دنیا ہے چاند ستارے جگنو پھول کتابیں خواب اک لڑکی کی کتنی پیاری دنیا ہے دل کی بات بتا کر مجرم بن بیٹھے استغفار خدایا کیسی دنیا ہے

ان دیکھی اور بھولی بھالی دنیا ہے Read More »

بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے

غزل بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے تونگرو ادھر آؤ فقیر موج میں ہے جسے بھی چاہیے خیرات نور لے جائے بھڑک رہا ہے الاؤ فقیر موج میں ہے خرید لے نہ تمہاری یہ کائنات تمام اسے بتانا نہ بھاؤ فقیر موج میں ہے گرا ہوا تو نہیں ہے زمیں کو تھامے ہے زمین

بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے Read More »

اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتے

غزل اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتے ہم آہ تو بھرتے ہیں دہائی نہیں دیتے کچھ درد ہیں ایسے کہ جو چہرے سے عیاں ہیں کچھ زخم ہیں ایسے جو دکھائی نہیں دیتے وہ راستے جچتے ہی نہیں اہل دلاں کو وہ راستے جو آبلہ پائی نہیں دیتے یادوں کی ہے اک بزم سجی

اس واسطے لوگوں کو سنائی نہیں دیتے Read More »