MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں

غزل یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں ہمارے عہد میں مکاریاں نہیں چلتیں قبیلے والوں کے دل جوڑئیے مرے سردار سروں کو کاٹ کے سرداریاں نہیں چلتیں برا نہ مان اگر یار کچھ برا کہہ دے دلوں کے کھیل میں خودداریاں نہیں چلتیں چھلک چھلک پڑیں آنکھوں کی گاگریں اکثر سنبھل سنبھل کے یہ […]

یہ داڑھیاں یہ تلک دھاریاں نہیں چلتیں Read More »

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے

غزل تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے ترا حسن کچھ نہیں تھا مری شاعری سے پہلے ادھر آ رقیب میرے میں تجھے گلے لگا لوں مرا عشق بے مزا تھا تری دشمنی سے پہلے کئی انقلاب آئے کئی خوش خرام گزرے نہ اٹھی مگر قیامت تری کم سنی سے پہلے مری صبح کے

تجھے کون جانتا تھا مری دوستی سے پہلے Read More »

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں

غزل ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں تہمتیں بد نامیاں رسوائیاں زندگی شاید اسی کا نام ہے دوریاں مجبوریاں تنہائیاں کیا زمانے میں یوں ہی کٹتی ہے رات کروٹیں بیتابیاں انگڑائیاں کیا یہی ہوتی ہے شام انتظار آہٹیں گھبراہٹیں پرچھائیاں ایک رند مست کی ٹھوکر میں ہیں شاہیاں سلطانیاں دارائیاں ایک پیکر میں سمٹ کر رہ

ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں Read More »

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے

غزل داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے ہم ترستے ہی ترستے ہی ترستے ہی رہے وہ فلانے سے فلانے سے فلانے سے ملے خود سے مل جاتے تو چاہت کا بھرم رہ جاتا کیا ملے آپ جو لوگوں کے ملانے سے ملے ماں کی

داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے Read More »

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے

غزل تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے تیرے آگے چاند پرانا لگتا ہے ترچھے ترچھے تیر نظر کے لگتے ہیں سیدھا سیدھا دل پہ نشانا لگتا ہے آگ کا کیا ہے پل دو پل میں لگتی ہے بجھتے بجھتے ایک زمانا لگتا ہے پاؤں نا باندھا پنچھی کا پر باندھا آج کا بچہ کتنا سیانا

تیرا چہرہ کتنا سہانا لگتا ہے Read More »

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا

غزل کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا میرا دروازہ ہواؤں نے ہلایا ہوگا دل ناداں نہ دھڑک اے دل ناداں نہ دھڑک کوئی خط لے کے پڑوسی کے گھر آیا ہوگا اس گلستاں کی یہی ریت ہے اے شاخ گل تو نے جس پھول کو پالا وہ پرایا ہوگا دل کی قسمت ہی

کون آئے گا یہاں کوئی نہ آیا ہوگا Read More »

اس کے حصار خواب کو مت کرب ذات کر

غزل اس کے حصار خواب کو مت کرب ذات کر اس خوشبوئے خیال کو تو کائنات کر دل کب تلک جدائی کی شامیں منائے گا میری طرف کبھی تو نسیم حیات کر میں اک طویل راستے پر ہوں کھڑی ہوئی یا حبس تیرگی لے یا ہاتھوں میں ہاتھ کر دھیمے سروں میں چھیڑ کے پھر

اس کے حصار خواب کو مت کرب ذات کر Read More »

دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں

غزل دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں سبز اک شاخ جلی ہے مجھ میں کتنی ویرانی ہے میرے اندر کس قدر تیری کمی ہے مجھ میں دور تک اب تو خموشی ہے بس دور تک اب تو یہی ہے مجھ میں مان لیتی ہوں مکمل ہو تم مان لیتی ہوں کمی ہے مجھ میں

دھول ہی دھول اڑی ہے مجھ میں Read More »

جو تو میرا مقدر بنتے بنتے رہ گیا ہے

غزل جو تو میرا مقدر بنتے بنتے رہ گیا ہے سمجھ لے، کچھ کہیں پر بنتے بنتے رہ گیا ہے یہ دل کے زخم تو ویسے کے ویسے ہی ہرے ہیں کہ تیرا لمس منتر بنتے بنتے رہ گیا ہے میں تیری دوری و قربت سے آگے آ گئی ہوں سو تیرا نقش دل پر

جو تو میرا مقدر بنتے بنتے رہ گیا ہے Read More »

گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی

غزل گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی کیوں پھر تری انکار کی عادت نہیں جاتی پھر اوڑھ لی ہے ہم نے ترے نام کی چادر پھر دل سے، وہی گھر کی ضرورت نہیں جاتی کیوں رات کے پردے میں چھپا دن نہیں آتا؟ کیوں آنکھ سے لپٹی یہ مسافت نہیں جاتی کیوں وقت

گر دل سے بھلائی مری چاہت نہیں جاتی Read More »