MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے

غزل

کوئی ان ہونا واقعہ نہیں ہے
عشق میرے لیے نیا نہیں ہے

تجھ کو ہر بات کا پتہ نہیں ہے
تو مرا عشق ہے خدا نہیں ہے

یوں نشانے نہ تاک تاک کے مار
ایک ہی دل ہے دوسرا نہیں ہے

یہ جو ہم روز لفظ بنتے ہیں
مسئلہ ہے یہ مشغلہ نہیں ہے

توڑتا ہے حدود کون و مکاں
درد کا کوئی دائرہ نہیں ہے

دو کنارے ہیں ایک میں اک تو
اور کناروں میں فاصلہ نہیں ہے

کوئی اظہار کی سبیل نہیں
آگ ہی آگ ہے ہوا نہیں ہے

یہ جو تم موت سے ڈراتے ہو
زندگی سب کا مسئلہ نہیں ہے

افتخار حیدر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم