MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سوئی

سوئی چیز اگرچہ ہوں میں ننھی لیکن ہوں میں کام کی کیسی آقا کو بھی میری ضرورت نوکر کو بھی میری حاجت کوئی جہاں میں گھر نہیں ایسا جس میں کام نہیں ہے میرا حال سناتی ہوں میں اپنا کان لگا کر سارا سننا مٹی میں سے لوہا نکالا لوہے کا فولاد بنایا تار پھر […]

سوئی Read More »

لالچ کا پھل

لالچ کا پھل اک مفلس کے چار تھے بچے دال اور روٹی جو کھاتے تھے کھاتے اسی کو سمجھ کے نعمت لب پہ نہ لاتے کوئی شکایت لیکن ان میں اک لڑکا تھا اس کو نہ بھایا ایسا کھانا اک لڑکے کا دوست بنا وہ دولت مند بہت کچھ تھا وہ اس کے گھر کو

لالچ کا پھل Read More »

دو لڑیں تیسرے کا بھلا ہو

دو لڑیں تیسرے کا بھلا ہو کھیت میں چند مرغیاں کم سن چگ رہی تھیں خوشی خوشی اک دن اور دو مرغے پھر نظر آئے لڑ رہے تھے جو ایک بھٹے پر اتنے میں ایک تیسرا مرغا آ کے چپکے سے بھٹا لے بھاگا رہ گئے دونوں ہو کے وہ خاموش اور دونوں کو آیا

دو لڑیں تیسرے کا بھلا ہو Read More »

ہے زباں پر سب کی مدحت علم کی

علم ہے زباں پر سب کی مدحت علم کی کیوں نہ ہو دل میں محبت علم کی کیوں نہ ہو ہر اک کو چاہت علم کی ہر کسی کو ہے ضرورت علم کی علم کے رتبے سے واقف ہے جہاں گوشے گوشے میں ہے شہرت علم کی جس کو چسکا لگ گیا ہے علم کا

ہے زباں پر سب کی مدحت علم کی Read More »

شام کا منظر بنے میاں جوہر

شام کا منظر شام ہوئی ہے سورج ڈوبا رنگ زمانے کا ہے بدلا شام سہانی دیکھو آئی کیسا سہانا وقت ہے لائی دل کو لبھا لیتا ہے کیسا چین ہمیں دیتا ہے کیسا شام کا اچھا اچھا منظر دل کو لبھانے والا منظر گھر کو چلا ہے کھیتی والا محنت سے سب تن ہے کالا

شام کا منظر بنے میاں جوہر Read More »

رفوئے دامن صد تار تار رہنے دے

غزل رفوئے دامن صد تار تار رہنے دے جو رہ گئی ہے وہی یادگار رہنے دے وفا نہیں نہ سہی رشتۂ جفا ہی سہی وہ رابطہ تو کوئی برقرار رہنے دے وہ بات کر کہ جو میرے لیے عجیب نہ ہو میں اور تجھ کو مرا انتظار رہنے دے ہمارا حال سر راہ پوچھنے والے

رفوئے دامن صد تار تار رہنے دے Read More »

صورت گردش حالات بدلتی ہی نہیں

غزل صورت گردش حالات بدلتی ہی نہیں اپنی محرومیٔ دل ہے کہ جو ٹلتی ہی نہیں دل کا یہ حال کہ غم کا نہ خوشی کا احساس اور طبیعت کا یہ عالم کہ سنبھلتی ہی نہیں اک تمنا ہے کہ ہو جیسے رگوں میں پیوست ایک حسرت ہے کہ جو دل سے نکلتی ہی نہیں

صورت گردش حالات بدلتی ہی نہیں Read More »

تمہارے حسن کو داد جمال دی میں نے

غزل تمہارے حسن کو داد جمال دی میں نے کھلا جو پھول تمہاری مثال دی میں نے کشاں کشاں مری منزل پہ آ رہا ہے کوئی کسی کے پاؤں میں زنجیر ڈال دی میں نے نہ کجروی کی شکایت نہ بے رخی کا گلہ جو دل میں تھی وہ توقع نکال دی میں نے عجیب

تمہارے حسن کو داد جمال دی میں نے Read More »

کیا کم ہے یہ بھی وعدۂ فردا کیا تو ہے

غزل کیا کم ہے یہ بھی وعدۂ فردا کیا تو ہے آئے نہ آئے اس نے مرا دل رکھا تو ہے دل خون ہو گیا ہے مگر رائیگاں نہیں روشن مرے لہو سے چراغ وفا تو ہے بے ناخدا بھی پار اترتی ہیں کشتیاں وہ جن کا ناخدا نہیں ان کا خدا تو ہے وہ

کیا کم ہے یہ بھی وعدۂ فردا کیا تو ہے Read More »

دل گیا شوخئ گفتار کہاں سے لاؤں

غزل دل گیا شوخئ گفتار کہاں سے لاؤں اب وہ پیرایۂ اظہار کہاں سے لاؤں قصۂ گردش دوراں سے ابھی ہوش نہیں داستان لب و رخسار کہاں سے لاؤں التجا کے لئے اپنوں سے تکلف ہے مجھے شیوۂ منت اغیار کہاں سے لاؤں شرکت غیر محبت میں گوارا کر لوں اس قدر جذبۂ ایثار کہاں

دل گیا شوخئ گفتار کہاں سے لاؤں Read More »