MOJ E SUKHAN

دل گیا شوخئ گفتار کہاں سے لاؤں

غزل

دل گیا شوخئ گفتار کہاں سے لاؤں
اب وہ پیرایۂ اظہار کہاں سے لاؤں

قصۂ گردش دوراں سے ابھی ہوش نہیں
داستان لب و رخسار کہاں سے لاؤں

التجا کے لئے اپنوں سے تکلف ہے مجھے
شیوۂ منت اغیار کہاں سے لاؤں

شرکت غیر محبت میں گوارا کر لوں
اس قدر جذبۂ ایثار کہاں سے لاؤں

آتش ہجر کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
راحت سایۂ دیوار کہاں سے لاؤں

تو ہے نزدیک رگ جاں مگر اے حسن تمام
تیرا جلوہ ترا دیدار کہاں سے لاؤں

بزمؔ مہلت نہیں دیتے مجھے افکار جہاں
فرصت کثرت اشعار کہاں سے لاؤں

بزم انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم