MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

زباں سے کر کے اظہار حقیقت آفریں میں نے

غزل زباں سے کر کے اظہار حقیقت آفریں میں نے زمانے بھر کو اپنا کر لیا ہے نکتہ چیں میں نے جنوں ہے بے خودی ہے بیکلی ہے بے قراری ہے محبت کی ہے یا پی لی شراب آتشیں میں نے یہ عالم کون سا عالم ہے دوری یا حضوری ہے اسی کو رو بہ […]

زباں سے کر کے اظہار حقیقت آفریں میں نے Read More »

بے زبانی باعث تشہیر الفت ہو گئی

غزل بے زبانی باعث تشہیر الفت ہو گئی ضبط کا حد سے گزرنا تھا کہ شہرت ہو گئی مسکرا کر آپ نے طے کر دیا اک مرحلہ اب مجھے کچھ آپ سے کہنے کی جرأت ہو گئی لٹ گئے گو ہم محبت میں مگر یہ تو ہوا پیار کرنا ہر کسی سے اپنی عادت ہو

بے زبانی باعث تشہیر الفت ہو گئی Read More »

ذرا سی بات کے کیا کیا بنے ہیں افسانے

غزل ذرا سی بات کے کیا کیا بنے ہیں افسانے ہمیں جنوں ہی سہی لوگ کیوں ہیں دیوانے پڑے نہ کام جہاں دوستوں سے کام پڑا وہیں پہ ٹوٹ گئے مدتوں کے یارانے نیا ہے عہد مراسم کے ہیں نئے معیار بدل گئے ہیں خلوص و وفا کے پیمانے پس غبار تو چہروں کو ہم

ذرا سی بات کے کیا کیا بنے ہیں افسانے Read More »

زندگی بھر شکست کھائی ہے

غزل زندگی بھر شکست کھائی ہے اب محبت سمجھ میں آئی ہے دل کا ملنا خوشی کی بات سہی یہ خوشی کس کو راس آئی ہے گر ہمیں ہے جنون دیدہ وری ان کو کیوں شوق خودنمائی ہے ہم جدھر ہیں فقط ہے نام خدا وہ جدھر ہیں ادھر خدائی ہے اک ملاقات میں ہے

زندگی بھر شکست کھائی ہے Read More »

مانا کہ اسے ہم سے کبھی پیار نہیں تھا

غزل مانا کہ اسے ہم سے کبھی پیار نہیں تھا ظالم مگر اتنا بھی دل آزار نہیں تھا ہم جس سے توقع پہ منانے کی خفا تھے وہ نام بھی سننے کا روادار نہیں تھا مدہوشیٔ الفت میں عجب بے خبری تھی دل ہوش میں آ کر بھی خبردار نہیں تھا سوچا تھا کڑی دھوپ

مانا کہ اسے ہم سے کبھی پیار نہیں تھا Read More »

سبک سری میں بھی اندیشۂ ہوا رکھنا

غزل سبک سری میں بھی اندیشۂ ہوا رکھنا سلگ اٹھے ہو تو جلنے کا حوصلہ رکھنا نئی فضا میں نئے پر نکالنے ہوں گے فلک کو زیر زمیں کو گریز پا رکھنا تمہارے جسم کے صندل کی آبرو ہے بہت ہجوم شوق میں رہ کر بھی فاصلہ رکھنا زمین پھول فضا نور آسمان دھنک انہیں

سبک سری میں بھی اندیشۂ ہوا رکھنا Read More »

کبھی تو یاد کے گلدان میں سجاؤں اسے

غزل کبھی تو یاد کے گلدان میں سجاؤں اسے کبھی وہ سامنے بھی ہو تو بھول جاؤں اسے کھلے جو ہیں مری شاخ خیال پر کچھ گل اسی کا کھیل ہے یہ کس طرح بتاؤں اسے وہ خوشبوؤں کی طرح آئے اور اڑ جائے میں کیسے پیرہن ذہن میں بساؤں اسے پتا تو ہو کہ

کبھی تو یاد کے گلدان میں سجاؤں اسے Read More »

دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہوا

غزل دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہوا بس ایک پھول ہی تو تھا بکھر گیا تو کیا ہوا کبھی کبھی تو روشنی بھی اک عذاب جاں ہوئی وہ چاندنی سے تیری کوکھ بھر گیا تو کیا ہوا نہ رات ہی سنور گئی نہ روشنی ہی مر گئی اندھیری باؤلی میں چاند اتر

دوا بغیر کوئی طفل مر گیا تو کیا ہوا Read More »

کوئی تو تھا دھنک دھنک خواب میں یا خیال میں

غزل کوئی تو تھا دھنک دھنک خواب میں یا خیال میں رنگ عجیب گھل گئے کیفیت ملال میں مہر تھی مرے نطق پر تیرے لبوں کی نغمگی ورنہ جواب تھے چھپے تیرے ہر اک سوال میں بول تو سوچ سوچ کر چل تو سنبھل سنبھل کے چل کی ہے بہت گلو کی بات ہم نے

کوئی تو تھا دھنک دھنک خواب میں یا خیال میں Read More »

لڑکھڑاتی ہوا روز کہتی ہے کیا شہر والو سنو

غزل لڑکھڑاتی ہوا روز کہتی ہے کیا شہر والو سنو ایک پودا کوئی آج پھر جل گیا شہر والو سنو آ گئے ریت کے ڈھیر دیوار تک بلکہ بازار تک دشت کے ہاتھ لکھ دیں نہ پھر فیصلہ شہر والو سنو کیا ستم خیز اجالوں سے اچھے ہمارے اندھیرے نہیں جنگلوں نے تمہیں کیا نہیں

لڑکھڑاتی ہوا روز کہتی ہے کیا شہر والو سنو Read More »