MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اک شام یہ سفاک و بد اندیش جلا دے

غزل اک شام یہ سفاک و بد اندیش جلا دے شاید کہ مجھے شعلۂ در پیش جلا دے اس دل کو کسی دست ادا سنج میں رکھنا ممکن ہے یہ میزان کم و بیش جلا دے کس قحط خور و خواب میں میں مول کے لایا وہ نان کہ جو کاسۂ درویش جلا دے رخصت […]

اک شام یہ سفاک و بد اندیش جلا دے Read More »

کبھی نہ خود کو بد اندیش دشت و در رکھا

غزل کبھی نہ خود کو بد اندیش دشت و در رکھا اتر کے چاہ میں پاتال کا سفر رکھا یہی بہت تھے مجھے نان و آب و شمع و گل سفر نژاد تھا اسباب مختصر رکھا ہوائے شام دلآزار کو اسیر کیا اور اس کو دشت میں پن چکیوں کے گھر رکھا وہ ایک ریگ

کبھی نہ خود کو بد اندیش دشت و در رکھا Read More »

روشن وہ دل پہ میرے دل آزار سے ہوا

غزل روشن وہ دل پہ میرے دل آزار سے ہوا اک معرکہ جو حیرت و زنگار سے ہوا جب نخل آرزو پہ خزاں ابتلا ہوئی میں دست زد ثوابت و سیار سے ہوا اک شمع سرد تھی جو مجھے وا گداز تھی اور اک شرف کہ خانۂ مسمار سے ہوا بیعت تھی میرے دست بریدہ

روشن وہ دل پہ میرے دل آزار سے ہوا Read More »

یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا

غزل یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا جو حشر مجھ پہ بپا ہے وہ اہتمام اس کا سپاہ تازہ بھی اس کی صف نگاہ سے ہے صفائے سینۂ شمشیر پر ہے نام اس کا امان خیمۂ رم خوردگاں میں باقی ہے کہ نا تمام ہے اک شوق قتل عام اس

یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا Read More »

بہت نہ حوصلۂ عز و جاہ مجھ سے ہوا

غزل بہت نہ حوصلۂ عز و جاہ مجھ سے ہوا فقط فراز نگین و نگاہ مجھ سے ہوا چراغ شب نے مجھے اپنے خواب میں دیکھا ستارۂ سحری خوش نگاہ مجھ سے ہوا گرفت کوزہ سے اک خاک میری سمت بڑھی صف سراب کوئی سد راہ مجھ سے ہوا شب فسانہ و فرسنگ اس سے

بہت نہ حوصلۂ عز و جاہ مجھ سے ہوا Read More »

کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے

غزل کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے وہی فسانۂ آشفتہ تر کہا اس نے شراکت خس و شعلہ ہے کاروبار جنوں زیاں کدے میں کس انجام پر کہا اس نے اسے بھی ناز غلط کردۂ تغافل تھا کہ خواب و خیمہ فروشی کو گھر کہا اس نے تمام لوگ جسے آسمان کہتے

کوئی نہ حرف نوید و خبر کہا اس نے Read More »

دعا کی راکھ پہ مرمر کا عطرداں اس کا

غزل دعا کی راکھ پہ مرمر کا عطرداں اس کا گزیدگی کے لیے دست مہرباں اس کا گہن کے روز وہ داغی ہوئی جبیں اس کی شب شکست وہی جسم بے اماں اس کا کمند غیر میں سب اسپ و گوسفند اس کے نشیب خاک میں خفتہ ستارہ داں اس کا تنور یخ میں ٹھٹھرتے

دعا کی راکھ پہ مرمر کا عطرداں اس کا Read More »

گرا تو گر کے سر خاک ابتذال آیا

غزل گرا تو گر کے سر خاک ابتذال آیا میں تیغ تیز تھا لیکن مجھے زوال آیا عجب ہوا کہ ستارہ شناس سے مل کر شکست انجم نوخیز کا خیال آیا میں خاک سرد پہ سویا تو میرے پہلو میں پھر ایک خواب شکست آئنہ مثال آیا کمان شاخ سے گل کس ہدف کو جاتے

گرا تو گر کے سر خاک ابتذال آیا Read More »

خون دل ہے نکھار کانٹوں پر

غزل خون دل ہے نکھار کانٹوں پر دیکھتا جا بہار کانٹوں پر انقلاب چمن کی بات کرو ہم نے دیکھی بہار کانٹوں پر میری دیوانگی بھی دیکھ چکی دامن تار تار کانٹوں پر فصل گل بھی گزار دی ہم نے اے غم روزگار کانٹوں پر دل کی بے خوابیاں نہ جائیں گی نیند آئے ہزار

خون دل ہے نکھار کانٹوں پر Read More »

چاند کا عکس تہہ آب چمکتا دیکھو

غزل چاند کا عکس تہہ آب چمکتا دیکھو یوں بھی درد دل بیتاب چمکتا دیکھو جانے کس راہ پہ راتوں کے مسافر نکلیں کوئی خورشید دم خواب چمکتا دیکھو جہل نے توڑ دئے اہل تدبر کے سبو ساغر عصر میں زہراب چمکتا دیکھو کل ملے یا نہ ملے فکر معیشت سے نجات آج کی رات

چاند کا عکس تہہ آب چمکتا دیکھو Read More »