MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

چاند سے پیار ستاروں سے شناسائی بھی

غزل چاند سے پیار ستاروں سے شناسائی بھی ہم نے دیکھی ہے غم دوست کی رسوائی بھی جلوۂ شہر نگار اور نکھر اور سنور ہم میں دیوانے بھی موجود ہیں سودائی بھی جلوۂ شہر نگار اور نکھر اور سنور ہم میں دیوانے بھی موجود ہیں سودائی بھی ذہن میں یوں تری یادوں کے نشے لہرائے […]

چاند سے پیار ستاروں سے شناسائی بھی Read More »

نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے

غزل نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے عروش صبح ابھی شب کی چادروں میں ہے نہ سوچ تاجوروں کا مآل کیا ہوگا یہ دیکھ تیشہ بکف کون پتھروں میں ہے بھڑک رہی ہیں کناروں کی بستیاں اب تک بلا کی آگ ہمارے سمندروں میں ہے نگار خانۂ معنی سے سرسری نہ گزر لہو

نظر میں لوچ نہ ہیجان منظروں میں ہے Read More »

وہم کے جبر کے مارے ہوئے انسانوں پر

غزل وہم کے جبر کے مارے ہوئے انسانوں پر آگہی طنز کیا کرتی ہے افسانوں پر کوئی افتاد نہ آ جائے ستم رانوں پر ضو فشاں صبح کا پرچم ہے شبستانوں پر خواب دوشیں سے مسافر نہ کہیں جاگ پڑیں ظلم نے روک لگا دی ہے حدی خوانوں پر اے مری آبلہ پائی یہ بتا

وہم کے جبر کے مارے ہوئے انسانوں پر Read More »

جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا

غزل جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا مڑ گیا سیل کدھر خوابوں کا زندگی عظمت حاضر کے بغیر اک تسلسل ہے مگر خوابوں کا ظلمتیں وحشت فردا سے نڈھال ڈھونڈھتی پھرتی ہیں گھر خوابوں کا قریۂ ماہ سے اس بستی تک روز ہوتا ہے گزر خوابوں کا صبح نو روز بھی دل کش ہے عروجؔ

جادۂ مے پہ گزر خوابوں کا Read More »

بہ قدر دید نہ تھے تیری انجمن کے چراغ

غزل بہ قدر دید نہ تھے تیری انجمن کے چراغ مری نگاہ فروزاں ہوئی ہے بن کے چراغ ہزار باد حوادث ہزار صرصر غم جلا رہا ہوں مگر عظمت چمن کے چراغ نقوش شہر نگاراں ابھارتے ہی رہے مرے جنوں کے اجالے تری لگن کے چراغ سواد عصر میں فردا کی تابناکی ہے بجھا دیے

بہ قدر دید نہ تھے تیری انجمن کے چراغ Read More »

آج یادوں نے عجب رنگ بکھیرے دل میں

غزل آج یادوں نے عجب رنگ بکھیرے دل میں مسکراتے ہیں سر شام سویرے دل میں یہ تبسم کا اجالا یہ نگاہوں کی سحر لوگ یوں بھی تو چھپاتے ہیں اندھیرے دل میں صورت باد صبا قافلۂ یاد آیا زخم در زخم کھلے پھول سے میرے دل میں یاس کی رات کٹی آس کا سورج

آج یادوں نے عجب رنگ بکھیرے دل میں Read More »

کچھ نہ کیا ارباب جنوں نے پھر بھی اتنا کام کیا

غزل کچھ نہ کیا ارباب جنوں نے پھر بھی اتنا کام کیا دار بہ دار افتاد سے کھیلے زلف بہ زلف آرام کیا ساون شعلے بھڑکے گلشن گلشن آگ لگی کیسا سورج ابھرا جس نے صبح کو آتش نام کیا تنہائی بھی سناٹے بھی دل کو ڈستے جاتے ہیں رہ گیرو کس دیس میں آ

کچھ نہ کیا ارباب جنوں نے پھر بھی اتنا کام کیا Read More »

خموشی میری لے میں گنگانا چاہتی ہے

غزل خموشی میری لے میں گنگانا چاہتی ہے کسی سے بات کرنے کا بہانا چاہتی ہے نفس کے لوچ کو خنجر بنانا چاہتی ہے محبت اپنی تیزی آزمانا چاہتی ہے مبادا شہر کا رستہ کوئی رہ رہ نہ پا لے ہوا قبروں کی شمعیں بھی بجھانا چاہتی ہے گلابوں سے لہو رستا ہے میری انگلیوں

خموشی میری لے میں گنگانا چاہتی ہے Read More »

پھر شیطانوں کی فطرت نے مجبور کیا انسانوں کو

غزل پھر شیطانوں کی فطرت نے مجبور کیا انسانوں کو پھر انسانوں کی بستی سے محروم کریں شیطانوں کو کاشانوں میں رہنے والے آباد کریں ویرانوں کو یہ دیوانے ہیں دیوانے کیا کہتے ہیں دیوانوں کو الحاد کی ظلمت دور ہوئی ایمان کی شمعوں سے کہہ دو تجدید محبت بھی ہوگی آواز تو دو پروانوں

پھر شیطانوں کی فطرت نے مجبور کیا انسانوں کو Read More »

یہ اہل ہوس ہر گام پہ اپنی شان بدلتے رہتے ہیں

غزل یہ اہل ہوس ہر گام پہ اپنی شان بدلتے رہتے ہیں موسم کے مطابق عشرت کا سامان بدلتے رہتے ہیں انصاف کی گردن پر خنجر چلتا ہے دولت مندوں کا بے درد زمانے کے تیور ہر آن بدلتے رہتے ہیں مختار کہیں مجبور کہیں زردار کہیں نادار کہیں اس طرح کتاب ہستی کے عنوان

یہ اہل ہوس ہر گام پہ اپنی شان بدلتے رہتے ہیں Read More »