MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عشق کی جرأت سے کھیلے بڑھ کے اپنی جان پر

غزل عشق کی جرأت سے کھیلے بڑھ کے اپنی جان پر آنچ آنے دی نہ ہم نے آج تک ایمان پر وقت نے قدریں بدل دیں لاکھ اس کے باوجود حق بہت کچھ ہے ابھی انسان کا انسان پر خار خوشبو دے رہے ہیں آج گلشن کے لیے پھول گلدستے کی صورت میں ہیں آتش […]

عشق کی جرأت سے کھیلے بڑھ کے اپنی جان پر Read More »

کلی کو پھولوں کی زندگی کا شعور پھر ایک بار ہوگا

غزل کلی کو پھولوں کی زندگی کا شعور پھر ایک بار ہوگا خزاں سے پیدا بہار کر لے چمن کو یہ اختیار ہوگا زمانہ پہلو بدل رہا ہے فلک کے تیور بتا رہے ہیں حریف جس کو چھپا رہے تھے وہ راز اب آشکار ہوگا سنا ہے صحرا نشیں گلستاں کی زندگی کو فروغ دیں

کلی کو پھولوں کی زندگی کا شعور پھر ایک بار ہوگا Read More »

انصاف کی گردن پر خنجر خود چلتے دیکھا کیا کہیے

غزل انصاف کی گردن پر خنجر خود چلتے دیکھا کیا کہیے احباب پرستی کے چکر میں پڑ گئی دنیا کیا کہیے پھر ذکر صداقت چھیڑ کے اپنی جان کا دشمن کون بنے دنیا کی نگاہوں نے دیکھا دنیا کا تماشا کیا کہیے وہ دیکھ ہوس کے دوش پہ شاید عشق کی میت جاتی ہے اب

انصاف کی گردن پر خنجر خود چلتے دیکھا کیا کہیے Read More »

سچی بات میں کڑواہٹ ہے وہ تو ہوگی

غزل   سچی بات میں کڑواہٹ ہے وہ تو ہوگی گڑیا رانی بھی منہ پھٹ ہے وہ تو ہوگی یہ جو پیار میں دیوانے ہیں فرزانے ہیں آج کل ان میں بھی کھٹ پٹ ہے وہ تو ہوگی کانٹوں کا ہے پھول سے رشتہ اب دانستہ ناری ہٹ بھی بالک ہٹ ہے وہ تو ہوگی

سچی بات میں کڑواہٹ ہے وہ تو ہوگی Read More »

ہمیشہ انسانیت کا دشمن رہا رقابت کا تازیانہ

غزل ہمیشہ انسانیت کا دشمن رہا رقابت کا تازیانہ جدھر ہوا سازگار دیکھی اٹھا ادھر چل پڑا زمانہ دلوں کی حالت خدا ہی جانے کلام لیکن ہے مخلصانہ نظر کا ہر فعل مشفقانہ زبان کی باتیں مکرمانہ تمہاری نظریں حریص نظریں بہ زعم زر چھیڑ کر رہی ہیں مگر ہمارے بھی صبر پیہم کو بھول

ہمیشہ انسانیت کا دشمن رہا رقابت کا تازیانہ Read More »

جس راجہ کے بل بوتے پر راج محل تک جاتی ہو

غزل   جس راجہ کے بل بوتے پر راج محل تک جاتی ہو راج محل میں بیٹھ کے اس پر پتھر کیوں برساتی ہو پتھر کی ان مورتیوں میں تم بھی ایک اضافہ ہو لاکھوں سیوک دیکھ رہے ہیں ہم سے کیوں شرماتی ہو دور گلی کی مورنیوں میں کتنی سندر لگتی ہو دل کے

جس راجہ کے بل بوتے پر راج محل تک جاتی ہو Read More »

اس کنبہ پرور دنیا میں بیکس کی حمایت کون کرے

غزل اس کنبہ پرور دنیا میں بیکس کی حمایت کون کرے جب غاصب منصف بن جائیں انصاف کی زحمت کون کرے جو فرق سمجھتے ہیں اب تک ہندی سندھی پنجابی میں ان عقل کے پورے لوگوں سے لڑنے کی حماقت کون کرے جو لٹ کر آئے ہیں ان کو صبر آتے آتے آئے گا لیکن

اس کنبہ پرور دنیا میں بیکس کی حمایت کون کرے Read More »

دل بے بس ہے جب چاہو تم قید کرو آزاد کرو

غزل دل بے بس ہے جب چاہو تم قید کرو آزاد کرو سب کچھ تم پر چھوڑ دیا ہے رکھو یا برباد کرو آپ کے گل ہیں آپ کا گلشن آپ یہاں مجبور نہیں کلیوں کی آنکھوں میں جھانکو پھولوں کے دل شاد کرو سب کہتے ہیں آپ ہمارے میخانے کے ساقی ہیں تشنہ لبوں

دل بے بس ہے جب چاہو تم قید کرو آزاد کرو Read More »

عشق و محبت کے افسانے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں

غزل عشق و محبت کے افسانے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں شمع جوانی کے پروانے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں محفل میں دل سوز ترانے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں لوگ نئے اور زخم پرانے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں مزدوروں کے خواب سہانے کل بھی تھے

عشق و محبت کے افسانے کل بھی تھے اور آج بھی ہیں Read More »

اے دنیا والو دنیا میں اخلاق کی پستی لعنت ہے

غزل اے دنیا والو دنیا میں اخلاق کی پستی لعنت ہے قرآن گواہی دیتا ہے شیطان کی ہستی لعنت ہے یہ دنیا آخر فانی ہے یہ دولت آنی جانی ہے سرمایہ پرستوں سے کہہ دو سرمایہ پرستی لعنت ہے معلوم نہیں یہ راز ابھی آزادی پانے والوں کو آزاد وطن کے لوگوں میں غدار کی

اے دنیا والو دنیا میں اخلاق کی پستی لعنت ہے Read More »