غزل
یہ اہل ہوس ہر گام پہ اپنی شان بدلتے رہتے ہیں
موسم کے مطابق عشرت کا سامان بدلتے رہتے ہیں
انصاف کی گردن پر خنجر چلتا ہے دولت مندوں کا
بے درد زمانے کے تیور ہر آن بدلتے رہتے ہیں
مختار کہیں مجبور کہیں زردار کہیں نادار کہیں
اس طرح کتاب ہستی کے عنوان بدلتے رہتے ہیں
اے دنیا والو جھوٹ نہیں یہ دنیا ہے اور دنیا میں
چاندی کے چمکتے سکوں پر ایمان بدلتے رہتے ہیں
جس روز سے خطۂ دنیا پر انسان کی شاہی قائم ہے
قانون بدلتا رہتا ہے فرمان بدلتے رہتے ہیں
افسوس در منصف سے بھی انصاف کی بھیک نہیں ملتی
کہنے کے لیے ہر روز نئے دربان بدلتے رہتے ہیں
موسیٰ کی ضرورت ہے یا رب فرعونوں کی اس بستی میں
خونخوار درندوں کی صورت انسان بدلتے رہتے ہیں
آدم کے سپوتوں کی اب تک رفتار وہی ہے دنیا میں
ہر گام پہ لیکن چال اپنی شیطان بدلتے رہتے ہیں
ابوالفطرت میر زیدی