MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا

غزل   آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا میرے یوسف کے لئے مصر کا بازار نہ تھا خوں ہوا اشک بنا اور مژہ سے ٹپکا دل کہ لذت کش رنگینیٔ انکار نہ تھا مبتلا ہوں ترا جب سے صنم کفر فروش زلف تا دوش نہ تھی دوش پہ زنار نہ تھا قصۂ طور […]

آپ بک جائے کوئی ایسا خریدار نہ تھا Read More »

نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے

غزل نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے عشق کو حسن بنا حسن کو حیرانی دے دل نوازی میں بھی ایذا ہے محبت کی قسم تجھ کو فرصت جو کبھی شغل ستم رانی دے کچھ تری چشم سخن ساز کا ایما نہ کھلا لب مے نوش کو تکلیف گل افشانی دے پھول وہ ہے جو

نگہ شوق کو یوں آئنہ سامانی دے Read More »

نوید وصل یار آئے نہ آئے

غزل نوید وصل یار آئے نہ آئے برابر ہے بہار آئے نہ آئے تجھے کرنا ہے جو کچھ آج کر لے کہ پھر یہ روزگار آئے نہ آئے کئے جا درد دل اے نامرادی کسی کو اعتبار آئے نہ آئے کوئی پرساں نہ ہو جب حال بد کا تمنا سوگوار آئے نہ آئے جو وہ

نوید وصل یار آئے نہ آئے Read More »

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا

غزل ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا پھر ان کی طرف اک نظر دیکھ لینا وہ میرا نہ کہنے میں کہہ جانا سب کچھ وہ ان کا اچانک ادھر دیکھ لینا عبث میری جانب سے تو بد گماں ہے نہیں مدعا کچھ مگر دیکھ لینا مرے غم کدہ میں وہ آئیں گے اک دن جھلک

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا Read More »

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے

غزل آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے دیکھ لینا دور تک اڑ کر شرارے جائیں گے موج طوفاں کو جنہوں نے چیرنا سیکھا نہیں اس کنارے سے بھلا کیا اس کنارے جائیں گے اتنی ہی رنگین ہوتی جائے گی اپنی نظر جس قدر تیرے تصور کو سنوارے جائیں گے کچھ نہ

آہ سے جب دل میں ڈوبے تیر ابھارے جائیں گے Read More »

حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں

غزل حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں یہ دھوکا تھا کہ تو ہے اور میں ہوں مقام بے نیازی آ گیا ہے وہ جان آرزو ہے اور میں ہوں فریب شوق سے اکثر یہ سمجھا کہ وہ بیگانہ خو ہے اور میں ہوں کبھی سودا تھا تیری جستجو کا اب اپنی جستجو ہے

حجاب رنگ و بو ہے اور میں ہوں Read More »

کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم

غزل کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم غیرت سے آ جاتا پسینا آنکھ نہ ہم سے ملاتے تم حیف تمہیں فرصت ہی نہیں ہے ورنہ کیا کیا حسرت تھی حال ہمارا کچھ سن لیتے کچھ حال اپنا سناتے تم ننگ ہے ملنا عار تکلم ایک زمانہ ایسا تھا بزم میں

کاہے کو ایسے ڈھیٹ تھے پہلے جھوٹی قسم جو کھاتے تم Read More »

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں

غزل دل گیا بے قراریاں نہ گئیں عشق کی خامکاریاں نہ گئیں مر مٹے نام پر وفا کے ہم تیری بے اعتباریاں نہ گئیں لب پہ آیا نہ اس کا نام کبھی غم کی پرہیز گاریاں نہ گئیں کھپ گئی جان بجھ گئے تیور اشک کی تابداریاں نہ گئیں توبہ کرنے کو ہم نے کی

دل گیا بے قراریاں نہ گئیں Read More »

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی

غزل چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی دل ڈوبنے لگا تو ابھارا کبھی کبھی ہر چند اشک یاس جب امڈے تو پی گئے چمکا فلک پہ ایک ستارا کبھی کبھی میں نے تو ہونٹ سی لیے اس دل کو کیا کروں بے اختیار تم کو پکارا کبھی کبھی زہر الم کی اور بڑھانے

چپکے سے نام لے کے تمہارا کبھی کبھی Read More »

جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی

غزل جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی بدلی کی چھاؤں تھی ادھر آئی ادھر گئی مشاطۂ بہار عجب گل کتر گئی منہ بند جو کلی تھی کھلی اور سنور گئی پیش جمال یار کرن آفتاب کی شرما کے چاہتی تھی کہ پلٹے بکھر گئی مل کے بھبھوت چہرے پہ تاروں کی چھاؤں کا دھونی

جھپکی ذرا جو آنکھ جوانی گزر گئی Read More »