MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیشہ انسانیت کا دشمن رہا رقابت کا تازیانہ

غزل

ہمیشہ انسانیت کا دشمن رہا رقابت کا تازیانہ
جدھر ہوا سازگار دیکھی اٹھا ادھر چل پڑا زمانہ

دلوں کی حالت خدا ہی جانے کلام لیکن ہے مخلصانہ
نظر کا ہر فعل مشفقانہ زبان کی باتیں مکرمانہ

تمہاری نظریں حریص نظریں بہ زعم زر چھیڑ کر رہی ہیں
مگر ہمارے بھی صبر پیہم کو بھول سکتا نہیں زمانہ

خدا کو مانو ہمیں نہ چھیڑو نظر نہ ڈالو ہمارے دل پر
نہ جم سکا ہے نہ جم سکے گا کبھی جو قبضہ ہو غاصبانہ

تمہاری باتیں عجیب باتیں نہ سر ہی سالم نہ پیر قائم
نہ عالمانہ نہ عاقلانہ نہ عارفانہ نہ شاعرانہ

حضور حالات مشتبہ ہیں منڈھے چڑھے گی یہ بیل کیوں کر
ہمارے اقدام دوستانہ تمہاری فطرت مخالفانہ

ابوالفطرت میر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم