MOJ E SUKHAN

جس راجہ کے بل بوتے پر راج محل تک جاتی ہو

غزل

 

جس راجہ کے بل بوتے پر راج محل تک جاتی ہو
راج محل میں بیٹھ کے اس پر پتھر کیوں برساتی ہو

پتھر کی ان مورتیوں میں تم بھی ایک اضافہ ہو
لاکھوں سیوک دیکھ رہے ہیں ہم سے کیوں شرماتی ہو

دور گلی کی مورنیوں میں کتنی سندر لگتی ہو
دل کے مندر میں پھر آ کر پتھر کیوں بن جاتی ہو

پیار نگر میں ہنسنا رونا سب کچھ ہوتا رہتا ہے
آپس کی باتوں میں آخر غیروں کو کیوں لاتی ہو

تم کہتی ہو ناری ہٹ میں دل کی بات مقدم ہے
دل کی بات مقدم ٹھہری پھر کیوں دھوکا کھاتی ہو

مورتیوں کے دیس میں سارے پتھر کے گن گاتے ہیں
تم کیوں آشاؤں کے سر پر ناگن سی لہراتی ہو

لاکھ بلاؤں چپ رہتی ہو یہ بھی کوئی بات ہوئی
من مندر میں آگ لگا کر دیوی کیوں بن جاتی ہو

دیوی جان کے دیوی دوارے جب ہم پھول چڑھاتے ہیں
روپ نگر میں ناری چھل کے کیا کیا روپ دکھاتی ہو

سندرتا سے پیار کی بندیا راکھی کے ارمانوں تک
ننگے بھوکے انسانوں پر کیا کیا تیر چلاتی ہو

زیدیؔ پر الزام لگا جب تم نے بھی تردید نہ کی
اپنے اوپر بات جب آئی کیسی قسمیں کھاتی ہو

ابوالفطرت میر زیدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم