MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک

غزل اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک تشنہ لبی کا اک دریا ہے شیشے سے پیمانے تک حسن و عشق کا سوز تعلق سمتوں کا پابند نہیں اکثر تو خود شمع کا شعلہ بڑھ کے گیا پروانے تک راہ طلب کے پیچ و خم کا اندازہ آسان نہیں اہل خرد کیا […]

اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک Read More »

ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں

غزل ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں یہ اک لطیف سا دھوکہ ہے زندگی تو نہیں سمجھ رہا ہوں کہ اپنا بنا لیا ہے انہیں اسی کا نام محبت کی سادگی تو نہیں لگا رہا ہوں لبوں کی ہنسی سے اندازہ کہ میرے غم کی طلب میں کوئی کمی تو نہیں نفس

ہنسی لبوں پہ ہے دل میں شگفتگی تو نہیں Read More »

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا

غزل جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا سماعت کا صدا سے فاصلہ کیا خود اپنے عالم حیرت کو دیکھے ترا منہ تک رہا ہے آئنا کیا اندھیرا ہو گیا ہے شہر بھر میں کوئی دل جلتے جلتے بجھ گیا کیا لہو کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے ترے رنگ حنا کا خوں

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا Read More »

حبس طاری ہے مسلسل کیسا

غزل حبس طاری ہے مسلسل کیسا اب کے برسا ہے یہ بادل کیسا جس سے احساس کی صدیاں گزریں تھا جدائی کا وہ اک پل کیسا لے کے نذرانۂ جاں کون آیا جشن سا ہے سر مقتل کیسا تیری توصیف سے خالی ہو اگر لفظ ہو جاتا ہے مہمل کیسا وہی دن رات محبت کا

حبس طاری ہے مسلسل کیسا Read More »

اک تبسم سے ہم نے روک لیے

غزل اک تبسم سے ہم نے روک لیے وار جتنے غم جہاں نے کیے کہہ رہے ہیں ہوا سے راز چمن کوئی غنچوں کے بھی تو ہونٹ سیے کیف کیا چیز ہے خمار ہے کیا یہ سمجھ کر شراب کون پیے ختم جب ہو گئیں تمنائیں ہم نئے حوصلوں کے ساتھ جیے رخ ہوا کا

اک تبسم سے ہم نے روک لیے Read More »

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا

غزل ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا لٹ گئی دولت احساس تو پھر کیا ہوگا کون تا صبح جلائے گا تمنا کے چراغ شام سے ٹوٹ گئی آس تو پھر کیا ہوگا جن کی دوری میں وہ لذت ہے کہ بیتاب ہے دل آ گئے وہ جو کہیں پاس تو

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہوگا Read More »

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں

غزل جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں لوگ سائے کو بھی دیوار سمجھ لیتے ہیں چھیڑ کر جب بھی کسی زلف کو تو آتی ہے اے صبا ہم تری رفتار سمجھ لیتے ہیں تو فقط جام کا مفہوم سمجھ اے ساقی تشنگی کیا ہے یہ مے خوار سمجھ لیتے ہیں ہم کہ ہیں

جہل کو علم کا معیار سمجھ لیتے ہیں Read More »

جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے

غزل جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے جو غم حبیب کو پا گئے وہ غموں سے ہنس کے نکل گئے جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے جو نظر نظر سے گلے ملی تو بجھے چراغ بھی جل گئے نہ خزاں میں ہے

جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے Read More »

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ

غزل ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ چراغ لے کے نہ جانے کدھر گئے ہیں لوگ سفر کے شوق میں اتنے عذاب جھیلے ہیں کہ اب تو قصد سفر ہی سے ڈر گئے ہیں لوگ دھواں دھواں نظر آتی ہیں شہر کی گلیاں سنا ہے آج سر شام گھر گئے ہیں

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ Read More »

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے

غزل جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے وہ نظر نظر سے گلے ملے تو بجھے چراغ بھی جل گئے یہ شکست دید کی کروٹیں بھی بڑی لطیف و جمیل تھیں میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے Read More »