اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک
غزل اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک تشنہ لبی کا اک دریا ہے شیشے سے پیمانے تک حسن و عشق کا سوز تعلق سمتوں کا پابند نہیں اکثر تو خود شمع کا شعلہ بڑھ کے گیا پروانے تک راہ طلب کے پیچ و خم کا اندازہ آسان نہیں اہل خرد کیا […]
اپنی طلب کا نام ڈبونے کیوں جائیں مے خانے تک Read More »