MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کسی انسان کو اتنا نہ ستایا جائے

غزل کسی انسان کو اتنا نہ ستایا جائے کہ وہ اپنوں سے بھی ہوکر کے پرایا جاۓ یہ عمل بھی تو عبادت کا اثر رکھتا ہے کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے جس پہ دنیا کے سب انسان اب اک ساتھ چلیں کم سے کم راستہ اک ایسا بنایا جائے یہ زمیں بوجھ زیادہ […]

کسی انسان کو اتنا نہ ستایا جائے Read More »

روپیہ پیسہ ڈالر والر، کیا کھویا کیا پایا

غزل روپیہ پیسہ ڈالر والر، کیا کھویا کیا پایا کچھ تو بتاؤ میرے دلبر، کیا کھویا کیا پایا تم کو بھی احساس ہوا ہو اس کا تو بتلاؤ تم نے ہمارے ساتھ میں رہ کر کیا کھویا کیا پایا بیت گئی ہے ساری ہستی دکھ ہی سہتے سہتے کون بتائے کس کو یہاں پر کیا

روپیہ پیسہ ڈالر والر، کیا کھویا کیا پایا Read More »

بزم دنیا میں مرا زخم جگر دیکھے گا کون

غزل بزم دنیا میں مرا زخم جگر دیکھے گا کون سب تو اپنے میں مگن ہیں پھر ادھر دیکھے گا کون اس سے اچھا موت آکر ساتھ لے جائے مجھے اپنی بربادی کا ماتم عمر بھر دیکھے گا کون اس لئے جاتی نہیں ہوں میں کبھی اب گھر سے دور میں چلی جاؤں کہیں تو

بزم دنیا میں مرا زخم جگر دیکھے گا کون Read More »

لب پہ فریاد نہیں دل یہ دوانہ ہی سہی

غزل لب پہ فریاد نہیں دل یہ دوانہ ہی سہی عشق سچا ہے مرا درد یگانہ ہی سہی میرے احساس کو پڑھنا ہو تو آنکھوں میں پڑھو شاعری جھوٹ سہی عشق فسانہ ہی سہی کم سے کم کچھ تو ترے ہونے کے آثار دکھے میرے دل میں تری یادوں کا ٹھکانہ ہی سہی دو قدم

لب پہ فریاد نہیں دل یہ دوانہ ہی سہی Read More »

تجھ سے بچھڑ گئی کہ جہاں سے بچھڑ گئی

غزل تجھ سے بچھڑ گئی کہ جہاں سے بچھڑ گئی پر لطف وادیوں کی مسافت کہاں گئی اب بے تکان کرنے لگے آپ گفتگو حیرت ہے وہ زبان کی لکنت کہاں گئی اہل جنوں کے جوش محبّت کو کیا ہوا جذبات میں وہ پہلے سی شدّت کہاں گئی چلنے لگا ہے آدمی باطل کی راہ

تجھ سے بچھڑ گئی کہ جہاں سے بچھڑ گئی Read More »

آخر وہ ہوا اب جو مرے من میں نہیں تھا

غزل آخر وہ ہوا اب جو مرے من میں نہیں تھا دشمن کوئی دل سا صف دشمن میں نہیں تھا گردوں کا وہ مہتاب سُہاتا مجھے کیسے جب چاند ہی میرا مرے آنگن میں نہیں تھا ایسے میں بھلا جاتی تو کیوں جاتی چمن کو وہ رشک گلستان ہی گلشن میں نہیں تھا خود ذہن

آخر وہ ہوا اب جو مرے من میں نہیں تھا Read More »

بچائےرہتے ہیں سب کے بھرم درودیوار

غزل بچائےرہتے ہیں سب کے بھرم درودیوار مگر اٹھاتے نہیں ہیں قسم درودیوار عبادتوں کے سبب جب بہشت بنتا ہے گھر سمیٹ لیتے ہیں بوئے ارم درودیوار سہارا لیتے نہیں ہیں عصاۓ شکوےکا اٹھائے پھرتے ہیں خود اپنے غم درودیوار نہ جانے دھوپ سے ہوجاتا کیسا حال اگر نہ دیتے سایۂ لطف و کرم درودیوار

بچائےرہتے ہیں سب کے بھرم درودیوار Read More »

انقلابات کی زنداں سے ہوا آتی ہے

غزل انقلابات کی زنداں سے ہوا آتی ہے خون مقتل سے مجھے بوئے حنا آتی ہے مار ڈالے نہ کہں عشق کا صحرائے جنوں سوئے زنداں طبعِ آزاد لئے جاتی ہے ماند پڑ جائے کہیں اس بت مر مر کی چمک اس کے ڈھکنے کو شعاعوں کی قبا آتی ہے کب تلک روکے گا مجھ

انقلابات کی زنداں سے ہوا آتی ہے Read More »

لمحہ کوئی ہمارا نہیں ہے خوشی لیے

غزل لمحہ کوئی ہمارا نہیں ہے خوشی لیے لیل و نہار آئے غمِ زندگی لیے اُن پہ بھی ہے سوار شبِ غم کا اب ستم پھرتے تھے جو چراغ بکف روشنی لیے دولت اڑا کے لے گئے جو دنیا دار تھے مبہوت ہم کھڑے تھے فقط آگہی لیے چھوڑا ہے کس کو عشق و محبت

لمحہ کوئی ہمارا نہیں ہے خوشی لیے Read More »

 سخن کے ساز پہ جب بھی قلم نے رقص کیا

غزل  سخن کے ساز پہ جب بھی قلم نے رقص کیا غزل کی شکل میں اس وقت ہم نے رقص کیا کسی کے ساتھ خوشی ہم کو جب نہ مل پائی ہمارے دل کے دریچے میں غم نے رقص کیا وہاں پہ صبح کو نکلا عذاب کا سورج تمام شب جہاں اہل ستم نے رقص

 سخن کے ساز پہ جب بھی قلم نے رقص کیا Read More »