غزل
اور سمت سفر راستہ اور ہے
عہد حاضر کا شاید خدا اور ہے
آندھیاں کس لیے مطمئن ہو گئیں
میرے گھر میں ابھی اک دیا اور ہے
جھوٹی خبروں کی تشہیر مت کیجئے
میری بستی کا وہ واقعہ اور ہے
عافیت کی تمنا مناسب نہیں
باقی اک عرصۂ کربلا اور ہے
ہم تمنائے ختم سفر کیوں کریں
اس سفر کی تھکن کا مزا اور ہے
آپ کا شہر دل کش بہت ہے مگر
گاؤں کی میرے آب و ہوا اور ہے
اپنی پہچان بھی اب تو ممکن نہیں
ہم ہی بدلے ہیں یا آئنہ اور ہے
شیش محلوں میں تابشؔ کو مت ڈھونڈیئے
اس قلندر کے گھر کا پتا اور ہے
تابش مہدی