MOJ E SUKHAN

اور سمت سفر راستہ اور ہے

غزل

اور سمت سفر راستہ اور ہے
عہد حاضر کا شاید خدا اور ہے

آندھیاں کس لیے مطمئن ہو گئیں
میرے گھر میں ابھی اک دیا اور ہے

جھوٹی خبروں کی تشہیر مت کیجئے
میری بستی کا وہ واقعہ اور ہے

عافیت کی تمنا مناسب نہیں
باقی اک عرصۂ کربلا اور ہے

ہم تمنائے ختم سفر کیوں کریں
اس سفر کی تھکن کا مزا اور ہے

آپ کا شہر دل کش بہت ہے مگر
گاؤں کی میرے آب و ہوا اور ہے

اپنی پہچان بھی اب تو ممکن نہیں
ہم ہی بدلے ہیں یا آئنہ اور ہے

شیش محلوں میں تابشؔ کو مت ڈھونڈیئے
اس قلندر کے گھر کا پتا اور ہے

تابش مہدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم