MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بھگت رہا ہوں میں بھگتان اس الاؤ کے ساتھ

غزل بھگت رہا ہوں میں بھگتان اس الاؤ کے ساتھ کہ لخت لخت ہوا ہوں میں اس جلاؤ کے ساتھ پرانے زخم مجھے مل رہے ہیں یاروں سے میں مطمئن ہوں لگے ایک ایک گھاؤ کے ساتھ بہا رہی تھی مجھے موجِ زندگی جس دن میں منتشر ہوا اس روز ہر دباؤ کے ساتھ خیال […]

بھگت رہا ہوں میں بھگتان اس الاؤ کے ساتھ Read More »

علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھا

غزل علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھا جو چیز دیکھنے کی تھی اسے کہاں دیکھا چھپائے رکھا ہمیشہ نگاہ گلچیں سے نہ دیکھنے کی طرح سوئے آشیاں دیکھا یہ یاد ہے کہ ملاقات تو ہوئی تھی کہیں مگر یہ یاد نہیں ہے تمہیں کہاں دیکھا قفس میں نیند بھی کیسے فریب دیتی ہے کھلی

علاوہ جلوۂ معنی کے کل جہاں دیکھا Read More »

جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آج

غزل جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آج اف رے خزاں رسیدہ چمن کی بہار آج دونوں کو ہر طرف ہے ترا انتظار آج دل کو قرار ہے نہ نظر کو قرار آج دیکھیں تو چوم لیں دم آرائش آئینہ ان کو بھی اپنی شکل پہ آ جائے پیار آج لو انتہائے شوق نے

جلوہ فروز دل میں ہے وہ گلعذار آج Read More »

غضب ہے اک بت کافر ادا نے لوٹ لیا

غزل غضب ہے اک بت کافر ادا نے لوٹ لیا کہ مجھ کو بندہ بنا کر خدا نے لوٹ لیا یہ کس کی بزم میں کم بخت لے گئیں نظریں نگاہ ناز نے مارا حیا نے لوٹ لیا جو دل کے پاس تھا سرمایۂ حواس و خرد نظر نے چھین لیا اور ادا نے لوٹ

غضب ہے اک بت کافر ادا نے لوٹ لیا Read More »

بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے

غزل بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے بڑی بربادیوں کے بعد یہ آباد ہوتا ہے ٹھہر اے گردش دوراں وہ لب جنبش میں آتے ہیں سراپا گوش ہو کر سن کہ کیا ارشاد ہوتا ہے در ساقی سے آزاد دو عالم اٹھ نہیں سکتا قیود مذہب و ملت سے رند آزاد ہوتا ہے

بہ آسانی کہیں شاداں دل ناشاد ہوتا ہے Read More »

ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اور

غزل ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اور بدلے ہوئے حالات میں کھو جائیں گے ہم اور افسانۂ اندوہ میں یکساں ہے ہر اک شخص اس دور پر آشوب میں تم اور نہ ہم اور لے جاتے ہیں بت خانے سے دل اپنا جلا کر رکھ لیں گے نئی شمع سر طاق حرم

ہیں وقت کے محکوم تو بہکیں گے قدم اور Read More »

مدعا دل کا کبھی لب آشنا ہوتا نہیں

غزل مدعا دل کا کبھی لب آشنا ہوتا نہیں عشق کا مفہوم لفظوں میں ادا ہوتا نہیں حسن والوں کا کرم دل پر روا ہوتا نہیں یہ خبر ہوتی تو ان پر مبتلا ہوتا نہیں موت سے بد تر ہے تیرے آسرے پر زندگی کاش کوئی زندگی کا آسرا ہوتا نہیں آپ کے ہم راہ

مدعا دل کا کبھی لب آشنا ہوتا نہیں Read More »

بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا

غزل بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا یہ تڑپانا تڑپنا رات بھر دیکھا نہیں جاتا ہمیں ترکیب ہی نظارۂ رخ کی نہیں آتی کہ وہ ہیں دیکھنے کی شے مگر دیکھا نہیں جاتا خدا جرأت نہ دے مجھ کو کسی دن لب کشائی کی کہ مجھ سے نالۂ محروم اثر دیکھا

بس اب ہم سے دل شوریدہ سر دیکھا نہیں جاتا Read More »

کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں

غزل کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں یہ دیوانے بھی گل چھرے اڑاتے ہیں بیاباں میں سما کر رہ گیا ہر ان کا جلوہ قلب سوزاں میں کہاں سے اتنی وسعت آ گئی اس تنگ داماں میں سلیقہ خاک اڑانے کا بڑی مشکل سے آتا ہے بگولے سر پٹک کر رہ

کسی کا ہاتھ دامن پر کسی کا سر گریباں میں Read More »

تیری بے رخی مری موت تھی ہوا التفات کبھی کبھی

غزل تیری بے رخی مری موت تھی ہوا التفات کبھی کبھی ترے التفات کی خیر ہو کہ ملی حیات کبھی کبھی رہ آرزو میں کہیں کہیں مجھے روک دیتے ہیں حادثے غم عشق ہے مرا مستقل غم کائنات کبھی کبھی مری جنبش لب غم زدہ جو ترے مزاج پہ بار ہے مرے آنسوؤں کی زباں

تیری بے رخی مری موت تھی ہوا التفات کبھی کبھی Read More »