MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے

غزل

ہر نفس تازہ مصیبت عمر بھر دیکھا کیے
دیکھنے کی شے نہ تھی دنیا مگر دیکھا کیے

جس قیامت سے ڈراتا بھی ہے ڈرتا بھی ہے شیخ
ٹھوکروں میں آپ کی شام و سحر دیکھا کیے

تم تو آسودہ شب وعدہ تھے خواب ناز میں
شب سے لے کر صبح تک ہم سوئے در دیکھا کیے

برہمی ان کی عدو کے ظلم گردوں کے ستم
یہ تو دیکھو آفتیں ہم کس قدر دیکھا کیے

اللہ اللہ کس قدر تھا ناز ان کی دید پر
گاہے گاہے خود کو بھی ہم اک نظر دیکھا کیے

آپ ہی اک ہر طرف جلوہ نما تھے بے حجاب
آپ کو دیکھا کیے اور عمر بھر دیکھا کیے

ہم کو ہر سجدہ تھا قیصرؔ تاج شاہی سے سوا
سر کی قیمت آستان دوست پر دیکھا کیے

قیصر حیدری دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم